کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟

زبانی بدسلوکی


نازیبا کلمات اور بے عزتی کے جملوں کا استعمال، بُرے ناموں سے پکارنا، خراب تبصرے، دھمکی دینا، مسلسل تنقید یا کسی کا مذاق اڑانا، کلامی زیادتی کی چند مثالیں ہیں۔ زبانی کلامی بے عزتی کی وجہ بڑھتا ہوا غصہ، مایوسی، یا پھر صرف غیر محفوظ شخصیت ہوسکتی ہے۔ زبانی بے عزتی سے کسی کو کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچتا لیکن یہ مظلوم انسان کی شخصیت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔

زبانی بدسلوکی کے حوالے سے کچھ خصوصیات بہت عام ہیں:

۱) بے عزتی: یہ زبانی بدسلوکی کی سب سے عام خاصیت ہے جس کا بنیادی مقصد دوسرے انسان کو چھوٹا اور بے عزت محسوس کروانا ہے۔ اپنے زندگی کے ساتھی کو زبانی کلامی طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنانا انہیں تکلیف پہنچا سکتا ہے مگر ایسا آپ نے ارادتاً کیا ہے۔ ایسا ہے ناں؟ ایسا انہیں تکلیف اور ایذا پہنچانے کے لیئے کیا گیا ہے۔ اسی طرح جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے کلمات کا استعمال کرتے ہیں تو وہ ذلت محسوس کرتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ اگر کوئی اجنبی انسان سڑک پر چلتے ہوئے آپ سے کوئی غلط جملہ کہہ دے تو آپ اسے ہم اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔

۲)تمسخر اڑانا: حالانکہ تمسخر اڑانا اور بے عزتی کرنا ایک جیسے الفاظ معلوم ہوتے ہیں لیکن ان میں کچھ فرق موجود ہے۔ تمسخر اڑانے سے مراد کسی کو شرمندہ کرنے کی نیت سے اس کا مذاق اڑانا ہے۔ تمسخر اڑانے کی سب سے عام مثالوں میں جسمانی ہیئت، قدیا رنگت کا مذاق اڑانا شامل ہیں۔

۳) قابو رکھنا یا حاوی رہنا: بد سلوکی کی دیگر اشکال کی طرح زبانی بدسلوکی میں بھی دوسرے انسان پر حاوی رہنے اور قابو پانے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ ہم سب لوگ کسی نہ کسی حوالے سے زبانی بد سلوکی میں ملوث رہتے ہیں۔یاد کیجیئے کہ آپ نے کسی کو آخری بار کب بُرے الفاظ سے نوازا تھا؟ ایسا کیوں ہوا تھا؟ کیا آپ کسی اور کی کہی ہوئی بات پر غصہ تھے یا پھر اس انسان نے آپ کو زچ کردیا تھا؟ کسی بھی وجہ سے قطع نظر، ایسا کرنے کے پیچھے اصل ذریعہ آپکا غصہ تھا۔ البتہ آپ نے کتنی بار لوگوں کوصرف اس لیئے بُرے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ انہیں ایسا کرنے میں مزہ آتا ہے۔ دوست اور بھائی بہن حتی کہ ماں باپ بھی کبھی کبھار اس طرح کی بدسلوکی کر جاتے ہیں کیونکہ ان کے لیئے یہ ایک تفریح اور معمول کی بات ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ہم اسے مذاق سے کچھ زیادہ تصور کرلیتے ہیں اور یہ بدکلامی اور زیادتی کے زمرے میں آجاتا ہے۔ ہم نے زندگی کے کچھ شعبوں اور کچھ رشتوں میں زبانی زیادتی کو کسی حد تک تسلیم کرتے ہوئے اسے روزمرہ کی زندگی کا معمول بنا لیا ہے۔

کچھ شعبہ جات جہاں آج بھی بدکلامی کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اسے بے عزتی اور تکلیف کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی استاد جماعت میں کسی طالب علم کے لیئے ’’ احمق‘‘ اور ’’ بیوقوف‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرے تو وہ اس کی خود اعتمادی کو بے حد نقصان پہنچا سکتا ہے۔ والدین کی جانب سے ’’خاموش ہوجاؤ‘‘ اور ’’دفع ہوجاؤ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کسی بھی قسم کی صورتِ حال سے قطع نظر بچے کو پریشان کرسکتا ہے۔ کسی بحث کے دوران ایک شریکِ حیات کا دوسرے سے متعلق برے الفاظ کا استعمال ان کے رشتے کے ساتھ ساتھ اس انسان کی شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اوپر درج بدکلامی اور تمسخر کی تمام اشکال کے علاوہ ایک اور شکل جس کا آن لائن استعمال دیکھنے میں آرہا ہے وہ ’’سائبر بُلنگ (Cyber bullying) ‘‘ ہے ۔ یہ ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے جس کے شکار بہت سے لوگ خودکشی کرچکے ہیں۔ بدکلامی یا زبانی زیادتی کی مختلف اقسام ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہ ایک ایسا رویہ ہے جسکا اثر دیر تک قائم رہتا ہے اور برسوں بعد بھی انسان اس کے دوران کہی جانیوالی باتیں یاد رکھتے ہیں۔

 آگے پڑھیں سب سے عام قسم کی زیادتی جس پر ہم سبسے کم توجہ دیتے   

  جنسی بدسلوکی