سائیکو تھراپی

:سائیکو تھراپی کی مختلف اقسام

سائیکو تھراپی (Psychotherapy)کی کئی اقسام ہیں جو کہ مختلف نظریاتی نکتۂ نظر پر منحصر ہوتی ہیں ۔ تاہم طریقہ علاج کے لحاظ سے اس کے تین اہم عناصر ہیں۔

۱) نفسیات کے شعبے میں ہونے والی تازہ تحقیقات
۲) تھراپسٹ کے نظریات کی سمت کا تعین
۳) وہ تکنیک جو مریض کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

یہ تینوں عوامل مجموعی طور پر مریض کے کامیاب علاج اور ذہنی صحت کی بحالی میں کافی مدد گار ثابت ہوتے ہیں

سوچ و بچار اور رویوں سے متعلق تھراپی (Cognitive behavioural therapy (CBT) ):

اس قسم کی تھراپی (psychotherapy) میں تھراپسٹ (therapist) سوچ بچار اور رویئے کی تکنیک پر علاج کا آغاز کرتا ہے جو کہ سوچ کے تصور،احساسات، جسمانی ردعمل اور اس کے نتیجے میں ہونے والے عمل اور خیالات پرمشتمل ہوتے ہیں اور تھراپسٹ کے پیش نظر وہ گمان، خیال یا نظریہ بھی ہوتا ہے جو مریض کو منفی خیالات اور منفی احساسات کے چکرمیں پھنساسکتا ہے۔ سی بی ٹی CBT کا مقصد بڑے مسائل اور الجھنوں سے مثبت انداز سے نمٹنا ہے جس کے لیے بڑے مسائل کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے اور مریض کو سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح منفی خیالات کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنا ہے ۔ تھراپی کے دیگر طریقوں کے برعکس سی بی ٹی مریض کے ماضی کو کریدنے کے بجائے موجودہ مسائل کا حل ڈھونڈتی ہے۔

اگر فزیشن یا تھراپسٹ کی جانب سے آپ کو سی بی ٹی طریقہ علاج تجویز کیا گیا ہے تو آپ کو ہفتے میں ایک بار تھراپسٹ کے پاس جانا ہو گا جو آپ کے ساتھ تیس سے پچاس منٹ تک کی ایک بیٹھک (Session) کرے گا اور یہ کورس عام طور پر پانچ سے بیس بیٹھکوں(sessions)پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مریض کی ضرورت اور مرض کی کیفیت پر منحصر ہوتا ہے۔

مریض کے ساتھ گفتگو کی ہر ایک بیٹھک (session) کے درمیان مسائل اور الجھنوں کو علیحدہ علیحدہ ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے جیسے مریض کے خیالات، جسمانی احساسات اور ردعمل۔ جس کے بعد تھراپسٹ اور مریض خیالات،جسمانی احساسات اور ردعمل میں سے وہ چیز منتخب کریں گے جسے درست کرنے کی سب سے پہلے ضرورت ہے۔ اب تھراپسٹ منفی خیالات اور منفی رویے کو تبدیل کرنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے جس کے لیے وہ کچھ مشق،ورزش یا تکنیک بتائے گا جسے مریض کو اپنی روز مرہ زندگی کے معمولات کے دوران دہرانا ہوگا۔

نفسیاتی تجزیے اور حرکاتِ نفس کے ذریعے تھراپی (Psychoanalysis and Psychodynamic therapies):

نفسیاتی تجزیے میں مریض کی زندگی کے ابتدائی حالات کو سمجھا جاتا ہے اور ماضی کے تجربات اور واقعات کی مدد سے حال کی الجھنوں اور ذہنی مسائل کو پرکھا جاتا ہے تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکے جو کہ مریض اور تھراپسٹ دونوں کے لیئے مسئلے کو سمجھنے کے لیئے فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس طرح کی تکنیکات کا استعمال کر تے ہوئے حالیہ مسائل کی اصل وجوہات کا جائزہ لیا جاتا ہے جو کہ ماضی میں کبھی مریض نے دبادی تھیں۔ مثال کے طور پر مریض کے اندر پیدا ہونے والی رویے اور برتاؤ سے جڑیمسائل میں اس کے لاشعور میں موجود معنوں کو سمجھنا اور اس کے حوصلہ افزا امکانات کا جاننا۔اس طریقۂ کار کی بنیاد مریض اور تھراپسٹ کے قریبی تعلق سے وابستہ ہے ، ایک مرتبہ لاشعور میں موجود مسائل کی جڑ کو جان لیا تو دونوں مل کر اس مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ نکال لیتے ہیں۔ اگرچہ نفسیاتی تجزیے (psychoanalysis) کے اس عمل کو سب سے پہلے سیگمنڈ فرائڈ نے متعارف کرایا لیکن اب اس نظریے میں کافی جدت آچکی ہے۔

تجزیاتی شناختکے ذریعے تھراپی (Cognitive Analytical Therapy (CAT)):

سی اے ٹی (CAT) میں عام طور پر سائیکو ڈائنامک سائیکو تھراپی (psychodynamic psychotherapy ) اور سی بی ٹی (CBT) کے طریقہ علاج کو یکساں طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آپکا برتاؤ اور رویہ کس طرح مسائل پیدا کرسکتے ہیں اور کس طرح اپنی مدد آپ اور تجرباتی طور پر ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ابتدائی بیٹھکوں (sessions) میں مریض سے ماضی کے واقعات اور تجربات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہیتا کہ وہ یہ محسوس کرسکیں کہ ان ماضی کے واقعات اور تجربات کے باعث اب وہ اس طرح سوچتے،محسوس کرتے اور ایسا رویہ اپناتے ہیں۔

کچھ سیشن کے بعد تھراپسٹمریض کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پراس کی رہنمائی کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ کس طرح مسائل اور الجھنوں کی اصل جڑ کو پہچانا جائے اور کیوں یہ مسائل جنم لیتے ہیں اور کس طرح چند تکنیک کے ذریعے ان مسائل سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے جن میں ڈائری رکھنا، کارکردگی جانچنے والے چارٹ اور دیگر مہارتوں سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے جن کی مدد سے انسان کو خود کو سنبھالنے میں مدد ملتی ہے ۔سی بی ٹی کی طرح تھراپی کی یہ قسم بھی مختصر ہوتی ہے جو سولہ سیشن پر محیط ہو سکتی ہے۔(لیکن یہ مدت ہر شخص کی ضرورت کے مطابق تبدیل بھی ہوسکتی ہے)

انسانی نفسیات کے ذریعے سائیکو تھراپی (Humanistic Psychotherapy):

مختصر وضاحت میں، اس تھراپی میں مریض کو اپنے بارے میں بہت مثبت انداز سے سوچنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور اس تھراپی کا مقصد مریض کی زندگی میں خود سے آگاہی حاصل کر کے اپنی زندگی میں بہتری لانا اور معیار زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اس تھراپی میں مریض کو اپنی خوبیوں کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ۔ اس تھراپی کی کئی قسمیں ہیں جس میں شخص کی مرکزی کاؤنسلنگ (Person-Centred counselling) ، گیسٹالٹ تھراپی (Gestalt therapy) اور ٹرانزکشن انیلیسس  (Transactional analysis) ، ٹرانسپرسنل سائیکولوجی (Transpersonal psychology ) اور ایکسزٹنشل تھراپی  ( Existential therapy)   وغیرہ شامل ہیں۔

انٹر پرسنل سائیکو تھراپی (Interpersonal psychotherapy (IPT)):

اس قسم کی تھراپی میں ذہنی بیماری اور ماضی کے کسی خاص واقعے کے درمیان ربط کو تلاش کیا جاتا ہے جو کہ بیماری کی وجہ ہو سکتی ہے، شخصی زندگی کے ماضی کے یہ واقعات سخت محرومی، تنازعات اور جگہ کی تبدیلی بھی ہوسکتے ہیں۔ اس تھراپی کا طریقۂ علاج مریض کو بیماری کے خلاف حکمت عملی تیار کرنے اور اس سے نمٹنے کے گُر سکھاتا ہے جس کی مدد سے وہ ذاتی پریشانیوں اور الجھنوں سے نجات حاصل کر کے ذہنی سکون پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی تھراپی اداسی (Depression) کے مریضوں کے لیے کافی مفید ہوتی ہے اور صرف بارہ سے سولہ سیشن کے دوران مرض پر قابو پالیا جاتا ہے۔

اہل خانہ کی تھراپی (Family therapy):

اس قسم کی تھراپی کا مقصد مریض کے اہل خانہ میں مرض سے متعلق آگاہی فراہم کرنا اور اجتماعی طو ر پر مریض کے مسائل اور الجھنوں کا حل ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ مریض کے والدین، بھائی بہن اور ہم سفر کے ساتھ سیشن کیے جاتے ہیں اور مریض کے مسائل کی تشخیص اور اس کا حل ڈھونڈنے میں حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو کہ مریض کیلیے کافی سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اس میں تھراپسٹ اہل خانہ کے ساتھ مل کر گروہ کی صورت تبادلہ خیال اور سرگرمیاں انجام دیتا ہے اور گھر کے ایک ایک فرد کو شامل کر کے مریض کے لیے ایک سازگار ماحول بناتا ہے جس سے ایک صحت مند فیملی کو فروغ ملتا ہے اور مریض کی ذہنی صحت میں بہتری آتی ہے۔ بعض اوقات اس قسم کی تھراپی میں ایک سے زائد تھراپسٹ کی ضرورت پیش آجاتی ہے جس کامقصد مریض اور اس کے اہل خانہ کے ایک ایک فرد پر مکمل توجہ دی جا سکے اور سب کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جا سکے۔

خود نگرانی کا نقطہ نظر (Self- Monitoring Approach):

مریض کو خود نگرانی سے متعلق تیکنیک یا گُر تھراپسٹخود مل کریا ای میل (E-mail) کے ذریعے بھی بتا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں مریض کو خود کو پہچاننے کی تربیت دی جاتی ہے جس کے بعد مریض جذبات، احساسات، سوچ اور رویے کے نتائج کو پرکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار مریض کو سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے جذبات اور ضروریات کا تعین خود کرے ان کے درمیان توازن بنائے، اہداف مقرر کرے اور اسے دہراتا رہے ۔ جتنا زیادہ مریض اس طریقہ کی مشق کرے گا اتنا ہی وہ اپنے خیالات کو جان پاتا ہے اور ان سے نمٹ سکتاہے۔

مسائل حل کرنے والا نقطۂ نظر (Problem-Solving Approach):

برتاؤ اور جذبات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے انسان اپنی ذہنی حالت کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اس طریقہ کارمیں سکھائے گئی تیکنیک سے مریض کو مسائل اور الجھن کا حل ڈھونڈنے میں مدد ملتی ہے جس کے لیے کسی ایک خاص واقعہ پر معلومات کے حصول اور دماغ لڑانے کے مختلف طریقوں کو استعمال کرکے ردعمل دینا ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار میں مریض خود پر تنقید کے بجائے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے مسائل سے نمٹے۔ علاج معالجے کے صحت مند تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے مریض اس قابل ہو جاتا ہے کہ صحت مند ذاتی حیثیت اور شناخت کی حدود مقرر کر سکے۔مثال کے طور پر لوگوں کو نہ کہنے کی ہمت کر سکے اور حالات کا دلیرانہ مقابلہ کرپائے۔

ایکلیکٹک اپروچ ( Eclectic Approach):

اس طریقہ کار کا انتخاب کرتے ہوئے تھراپسٹ سائیکو تھراپی کے مختلف طریقہ علاج، نظریات اور عملی تجربات میں الگ الگ نقطہ نظر منتخب کر کے ایک نیا مجموعہ بنا لیتا ہے جو کہ مریض کی ضرورت اور کیفیت کے عین مطابق ہوتا ہے اور جو مریض کی ذہنی صحت کے ہدف کے لیے درکار بھی ہوتی ہے۔ چوں کہ بہت سے ماہرین نفسیات اور تھراپسٹ کسی ایک مکتبہ فکر سے جڑے رہنا نہیں چاہتے بلکہ تمام نظریات سے ضرورت کے مطابق فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اسی لیئے وہ اسی طریقہ کار کو اپناتے ہیں جو کہ ان کے مریض کے لیے سب سے بہتر ہو

 کیا سائیکو تھراپی واقعی فائدیمند ہے؟    

  سائیکو تھراپی کی تاثیر