ذہنی دباؤ کا شکار؟

ذہنی دباؤ کے بارے میں


کیا آپ نے کبھی خود کو کاموں اور مختلف ذمہ داریوں کے درمیان گھرِا ہوا پایا ہے؟ کیا آپ نے کبھی اپنے آپ کو ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کی شکایت کرتے پایا ہے؟ کیا آپ نے کبھی ذہنی دباؤ اور کشمکش کی وجہ سے اپنے اندر ہونے والی جذباتی اور جسمانی تبدیلیوں کو محسوس کیا ہے؟ ذہنی دباؤ مختلف صورتوں میں سامنے آنے والا ایک فطری انسانی عمل ہے جسکا ہر انسان اپنی زندگی میں کئی بار سامنا کرتا ہے ۔ مگر ذہنی دباؤ کی یہ کیفیت آخر کیا ہے اور ہم یہ کیوں محسوس کرتے ہیں؟

عام طور پر ہم اس کیفیت کا اظہار کرنے کے لیئے تناؤ، دباؤ، کشیدگی اور پریشانی جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات شخصیات کے مطابق ذہنی دباؤ ایک منفی جذباتی آزمائش ہے جس کی وجہ سے انسان میں مختلف حیاتیاتی (Biological)، جسمانی(Physiological)، شناختی ( Cognitive) ، جذباتی (Emotional) اورانسانی برتاؤ (Behavioural) میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس قسم کی تبدیلیاں دباؤ کی وجوہات یا اسکے اثرات کی وجہ سے ہوسکتی ہیں ۔اکثر اوقات کام کی ضرورت اور دستیاب سہولتوں میں اختلاف دباؤ کی وجہ بنتی ہے۔ تحقیق کاروں نے ذہنی دباؤ کی دو مختلف کیفیات بیان کی ہیں۔

(۱)مثبت ذہنی دباؤ جو کہ فائدہ مند ہے اورکسی بھی کام کے جاری رکھنے کے لیئے ضروری ہوتا ہے۔
(۲)منفی ذہنی دباؤ جو کہ نقصان دہ کیفیت کو ظاہر کرتا ہے اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

ذہنی دباؤکو بیان کرنے کی ایک قدیم اور مشہور مثال کیننز فائٹ (Canon's Fight) یا فلائٹ ماڈل (Flight Model) ہے جس کے مطابق اگر کوئی انسان اپنے ماحول سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو اسکا جسم لڑنے یا بھاگ جانے جیسے ردعمل کا اظہار کرتا ہے جو انکے سمپیتھاٹک نروس سسٹم (Sympathetic Nervous System ) کو قابل کردیتا ہے جسکیوجہسے خون کا بہاؤ اور سانس تیز ہوجاتا ہے اور ہاضمہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغ میں موجود احساسات کا مرکز کام کرنا شروع کردیتا ہے اور نیو کارٹکس (Neo-cortex) جو کہ دماغ میں سوچنے سمجھنے کی اعلٰی صلاحیتیوں کو انجام دینے کا پابند ہوتا ہے اپنا کام بند کردیتا ہے جس کی وجہ سے انسان منطقیت کی بہ نسبت ذیادہ جذباتیت محسوس کرتا ہے۔ان حالات میں انسان حالات کا مقابلہ کرتا ہے (جسے اصطلاح میں فائٹ رسپانس Fight Response کہتے ہیں) یا پھر اپنے جسم میں اضافی توانائی اور خون کا بہاؤ محسوس کرتے ہوئے صورتِحال سے بھاگ جاتا ہے (جسے ا صطلاح میں فلائٹ رسپانس Flight Response کہتے ہیں)۔ جب انسان مزید کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا تو اسکا پرسمیٹک نروس سسٹم (Parasympathetic Nervous System ) بحال ہوجاتا ہے جو کہ دل کی دھڑکن اور سانس کو معمول پر لے آتا ہے اور نیو کارٹکس  (Neo-cortex)  اور ہاضمہ بھی بحال کردیتا ہے تاکہ انسان اپنی اصل حالت میں واپس آسکے۔

حالانکہ ذہنی دباؤ کی کیفیت ایک قدرتی عمل ہے جو کہ ہمارے روزمرہ کے کام کاج پورے کرنے کے لیئے اہم ہے لیکن اسکے دیرپا اثرات بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں جسکی وجہ سے دماغ کی کمزوری، امیون سسٹم (Immune System) ،دل کی بیماریاں اور مختلف دماغی اور جسمانی بیماریاں واقع ہوسکتی ہیں۔ اسی لیئے یہ ضروری ہے کہ جسمانی توازن کی کیفیت کو برقرار رکھا جائے اور ذہنی کشیدگی پر قابو پایا جائے۔۔ماہرین کی جانب سے ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے کئی طریقے متعارف کروائے گئے ہیں جن میں گہرے سانس لینا(Deep Breathing)، غوروفکر کرنا (Mindfulness Techniques) ، متوازن کسرت (Rhythmic Exercises) اور یوگا (Yoga) شامل ہیں۔


 ذہنی دباؤ سے نمٹنا کے بارے میں پڑھیں    

  ذہنی دباؤ سے نمٹنا