زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ

زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ کی بناء پر معاشرے میں رسوائی کا خوف


پاکستان میں اس وقت پی پی ڈی کے مریضوں کی تعداد۶۳ فیصد ہے جو کہ نا صرف ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے بلکہ خطرناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک ذہنی بیماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے فوری طور پر توجہ کی ضرورت ہے۔ حمل کا دورانیہ اور بچے کی پیدائش خواتین کے لیئے ایک خوشگوار وقت ہونا چاہیئے مگر تمام خواتین اس وقت کا لُطف نہیں اُ ٹھا پاتیں کیونکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔


سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہر ۹ میں سے ایک خاتون پی پی ڈی کی کسی علامت کا شکار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے خواتین پی پی ڈی کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔ابتدائی مراحل میں بیماری کی شناخت ہوجانے سے ایک مؤثر علاج ممکن بنایا جاسکتا ہے لیکن اگر اس کی شناخت نہ ہوسکے تو یہ ماں اور نوزائیدہ بچے کے لیئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

خواتین خاموش کیوں رہتی ہیں؟

جرم کا احساس وہ احساس ہو جو کہ عام طور پر نئی ماؤں میں پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی کی مدد لینے سے ہچکچاتی ہیں۔ جب ایک عورت ماں بنتی ہے تو یہ ایک کردار سے دوسرے کردار میں منتقلی کا دور ہوتا ہے جسے اکثر خواتین فوری طور پر قبول نہیں کر پاتیں۔ ذمہ داری کے بڑھ جانے کا احساس انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے مزید یہ کہ دورانِ حمل اور زچگی کے دوران پیدا ہونے والے حالات اور واقعات پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے خواتین ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ایسی خواتین جب پی پی ڈی کا شکار ہوجاتی ہیں تو اپنی ذمہ داریوں کو مناسب انداز میں پورا نہ کرنے کا احساس انہیں ایک احساسِ جرم میں مبتلا کردیتا ہے۔


مختلف تحقیقات اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ اکثر خواتین اس خوف کا شکار ہوتی ہیں کہ وہ اپنا اور اپنے نوزائیدہ بچے کا خیال رکھنے میں ناکام ہوجائیں گی۔ ایک عام خیال ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو بالکل ٹھیک ٹھاک حالت میں ہونا چاہیئے تاہم کچھ خواتین ایک مثالی ماں کے معاشرتی تصور کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھل نہیں پاتیں اور جلد ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر ذاتی ہتک اور اپنی ہی ذات سے نفرت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ خود اعتمادی اور اپنی ذات کی توڑپھوڑ انہیں کسی قسم کی شخصی اور طبی مدد لینے سے روکے رکھتی ہے جس کی انہیں اس دور میں شدید ضرورت ہوتی ہے۔


اس کے علاوہ خواتین میں یہ خوف بھی موجود ہوتا ہے کہ اگران میں موجود پی پی ڈی کی علامات لوگوں کے سامنے ظاہر ہوگئیں تو ان کا موازنہ ان سے پہلے کی خواتین سے کیا جائے گا، یا پھر مغربی ممالک میں ممکنہ طور پر نوزائیدہ بچوں کو ان کی ماں سے الگ کردیا جائے گا۔ اس حد درجہ خوف کی وجہ سے خواتین پی پی ڈی کے علاج کے لیئے آگے نہیں بڑھتیں اور یہی وجہ ہے کہ پی پی ڈی کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔


خواتین کا پی پی ڈی کے بارے میں بات نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ آگہی کی کمی بھی ہے ۔ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کچھ خواتین اس ذہنی حالت کے بارے میں بالکل نہیں جانتی ہیں اسی لیئے وہ اس کی علامات پر توجہ نہیں دیتیں۔

رسوائی کے اس خوف کو کم کرنے کے طریقے:

اس خوف کو ختم کرنے کا سب سے آسان طریقہ پی پی ڈی سے متعلق آگہی ہے۔ گائنا کالوجسٹ، نرس اور بنیادی ڈاکٹروں کو چاہیئے کہ وہ تمام حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو اس بیماری، اس کی علامات اور اور اس کے علاج کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کریں۔ اس سے انہیں اس بات کو جاننے میں مدد ملے گی کہ آیا وہ ان میں سے کسی علامت کا شکار ہیں یا نہیں۔ اوریہ معلومات ان کے لیئے مناسب مدد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ ماؤں اور ان کے شریک حیات کو گائنا کالوجسٹ کے ساتھ معمول کی ملاقاتوں میں پی پی ڈی کے متعلق بنیادی معلومات فراہم کردینی چاہیئے۔

حوالہ جات
۱) سی ڈی سی فیچر (۱۴ مئی ، ۲۰۱۸) https://www.cdc.gov/features/maternal-depression/index.html سے ماخوذ
۲) پاکستان میں زچگی کے بعد ذہنی دباؤ ۔ نرسنگ فار وومن ہیلتھ ، (۲) ۱۷، ۱۵۲ ۔ ۱۴۷۔ غلامانی، ایس۔ایس ، شیخ، کے۔ اور چغانی جے۔
۳) زاوڈیرار سی، (۲۰۰۹ ) کس طرح بچے کی پیدائش سے متعلق تعلیم دینے والے اس خاموشی کع توڑ سکتے ہیں
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC2684038/
سے ماخوذ