ذہنی صحت

بدنامی کے بارے میں چند باتیں


بے عزتی، بدنامی اور ذلت کرنا ایسا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ ایک شخصسے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے ۔ بدقسمتی سے ذہنی بیماری کو معاشرے میں برے ناموں سے پکارا اور بے عزتی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بالخصوص قدامت پسندمعاشرے جیسے پاکستان میں اگر کوئی ذہنی مرض میں مبتلا ہوجائے تو اس کے اپنے اہل خانہ اور دوست اس کی بے عزتیکرتے ہیں اور بے دخل کر دیتے ہیں ۔

فرض کریں کہ آپ گر جاتے ہیں جس سے آپ کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے تو کیا آپ ہڈی جڑوانے کے لیے کسی ڈاکٹر کے پاس جانے، دوائی لینے اور فزیو تھراپی کرانے سے شرمائیں گے؟ بلکہ ہوسکتا ہے کہ کئی ایک کھلے عام اپنی مرہم پٹی سب کو دکھائیں۔ ذہنی بیماری سے متعلق بات کرتے ہوئے کیوں ایک فرد کو پریشانی یا شرمندگی کا سامنا ہونا چاہیئے؟ تاہم بدقسمتی سے معلومات میں کمی اور آگاہی نہ ہونے کے باعث ذہنی بیماری کو بہت برا بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سماجی دباؤ اور مختلف اضافی وجوہات بھی ہیں، ان تمام عوامل کی بناء پر ہم ذہنی صحت کو نظر انداز کردیتے ہیں اور ذہنی الجھنوں کو سلجھانے کے بجائے صحت مند ذہنی صحت کی اہمیت کو ہی بھول جاتے ہیں۔

ایک اور مثال لیجیئے، کینسر جو کہ ایک خودکار مدافعاتی بگاڑ (Auto-immune Disorder)کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں ہمارے اپنے خلیے ایک دوسرے کو ختم کرنے لگتے ہیں، کیونکہ کینسر کو بُرا نہیں سمجھا جاتااس لیئے اس کا علاج بھی کرایا جاتا ہے۔ جیسے کینسر کی مرض کے پیچھے ایک سائنسی وجہ موجود ہے اسی طرح ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کی بھی سائنسی وجوہات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اداسی (Depression) میں مبتلا مریض میں کیمیائی مادے سیروٹونن (Serotonin)کی کمی ہوتی ہے اس لیئے سیروٹونن (Serotonin) کے اس عدم توازن کو دور کرنے کے لیے دواکی ضرورت پڑے گی۔ دونوں بیماریوں سے متعلق معاشرے کے ردعمل میں بہت فرق ہے، کیونکہ ذہنی امراض کا علاج کرانا کبھی بھی معاشرے کی روایت نہیں رہا۔

تو کیا ہوتا ہے جب ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کو معاشرے کے منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

۔ ذہنی بیماری خود پیدا کردہ نہیں: ایک چیز جو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ذہنی صحت میں خرابی کسی انسان کا اپنا انتخاب نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ مریضکے اپنے خیالات ہوتے ہیں۔ ان خیالات کے ساتھ ہم مریض کی مدد کرنے اورحالات کو سدھارنے کے مواقعوں کو ضائع کر رہے ہیں۔

۔مریض کا خود کو مجرم سمجھنا : جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ہمیں، ہماری بیماری اور کیفیت کو خود سے الگ کر رہا ہے تو ہمارے لیئے خود کو الزام دینا اور اپنے آپ کو قصوروار سمجھنا بہت آسان ہوجاتا ہے، خود اعتمادی میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور ہم یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید یہ سب صرف ہمارے دماغ کا وہم ہے۔

۔مریض کا بات کرنا کم کردینا: مسلسل توہین آمیز رویئے کی وجہ سے مریض اپنے دوستوں اور بھروسہ مند لوگوں کے سامنے بھی بات کرنا کم کردیتا ہے، حالانکہ ایسے وقت میں کسی پر بھروسہ کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

۔مدد لینے سے رُکے رہنا: اگر ذہنی بیماری میں مبتلا شخص کو مسلسل تنقید اوربے عزتی کانشانہ بننے اور معاشرے سے بے دخل ہوجانے یا اہل خانہ اور احباب سے الگ ہوجانے کا خوف رہے گا تو اس طرح مریض کے مدد لینے کے امکانات بالکل ختم ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں ذہنی صحت کے حوالے سے لوگوں کا رویہ :

پاکستان میں ماہرین نفسیات اور سائیکو تھراپی (Psycho therapy) اور ذہنی صحت سے متعلق ان کے کردار کی اہمیت میں کچھ برسوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ بیماری میں مبتلا افراد کا ذہنی مسائل کو قبول کرنا اور اسے قابل علاج سمجھ کر مدد حاصل کرنا ہے۔

پاکستانی ایک ترقی پذیر ملک ہے جسے دہشت گردی، صدمات، نقصان، دکھ اور خوف کا ایک ہی وقت میں سامنا ہے اور یہ دباؤ اور تناؤ کے بڑے دور سے گزر رہا ہے چنانچہ ایسے میں ماہرین نفسیات، سائیکو تھراپسٹ سمیت اس شعبے سے جڑے دیگر لوگ سامنے آئے ہیں تا کہ لوگوں کی مدد کی جاسکے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیئے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خدمات کی اشد ضرورت ہے، لیکن بدقسمتی سے معاشرے نے اب تک اس حقیقیت کو قبول نہیں کیا ہے۔اس حوالے سے کچھ تھوڑی بہت پیش رفت ضرور ہوئی ہیں لیکنیہ ہماری ضرورت سے بہت کم ہے جس کی وجہ سے پاکستان جیسے ثقافت رکھنے والے ملک میں ایسی پیش رفت غیر مؤثر ہے۔

تاہم یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ذہنی بیماری میں مبتلا ۶۰ فیصد سے زائد افراد کسی ماہر نفسیات یا سائیکو تھراپسٹ سے رجوع ہی نہیں کرپاتے کیوں کہ مریضوں کو خوف ہوتا ہے کہ انہیں پاگل قرار نہ دے دیا جائے یا برے ناموں سے نہ پکارا جانے لگے جو کہ مریض کے لیے بیماری سے بھی زیادہ تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔

ذہنی صحت سے متعلق خدمات حاصل کرنے میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

ذہنی صحت سے متعلق خدمات فراہم کرنے والوں کے ساتھ ساتھ، یہ خدمات حاصل کرنے کے خواہش مند مریضوں کو کافی رکاوٹوں کا سامنا ہے، پاکستان میں سب سے بڑی رکاوٹ لوگوں کے مضبوط قدامت پسند خیالات ہیں جس کی جڑیں پاکستانی کلچر میں کافی گہری ہیں، ساتھ ہی ذہنی صحت کے حوالے سے تعلیم یافتہ لوگوں کی کمی اور اعلیٰ معیار کی خدمات کی عدم دستیابی بھی ان وجوہات میں شامل ہیں ۔ ذہنی صحت سے متعلق خدمات کی فراہمی کے پروگرام سے پہلے اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ اس راہ میں حائل ان رکاوٹوں کو ختم کیا جائے تاکہ ایسے پروگراموں کی تاثیر اور عوام میں قبولیت کی راہ ہموار ہو۔

ان رکاوٹوں میں اور کون کون سی چیزیں شامل ہیں اس کے لیے ہمیں پاکستان کے کلچر اور ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی۔

۱) خود آگاہی کی کمی:

ذہنی بیماری کے دوران آپ کی خود پسندی یا خود اعتمادی ہمیشہ عروج پر نہیں رہتی چنانچہ جب آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں اور ہر کسی کو تنقید اوربے عزتی کرتا پاتے ہیں تو آپ خود کو الزام دینا شروع کردیتے ہیں اور خود کو مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔ یہبہت آسان ہوگا کہ آپ خود سوچنے لگیں کہ کیا واقعی آپ کمزورہیں اور ہوسکتا ہے کہ اس کا انتخاب خود آپ نے انجانے میں کیا ہو اور آپ اس کیفیت سے باہر آنا چاہتے ہوں۔ تاہم یہاں آپ وہ عوامل نظر انداز کر جاتے ہیں جو ذہنی بیماری کا سبب بنتے ہیں ، کہ اگر کوئی اور پرواہ نہیں کرتا تو آپ کیوں کریں؟ یہ خود پر اس کیفیت کو برقرار رکھنے یا خود پر رحم کھانے جیسا ہے جو کہ ذہنی بیماری کو مزید خراب بنادیتا ہے۔ ایساکیوں ہوتا ہے کہ اہل خانہ اور دوستوں کے چند لاپرواہ سے الفاظ اآپ پر مستقل اثر انداز ہوگئے ہیں۔ بہت سے معاملات میں اہل خانہ کی کچھ عام باتیں سننے کو ملتی ہیں، ’’ جیسے۔۔۔۔ میرا مطلب ہے ہم سب مسائل کا شکار ہیں‘‘ ، ’’وہ نافرمان /مشکل ہے‘‘ ، ’’ڈرامے بند کرو‘‘، ’’سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، تم اس کو اتنا بڑا مسئلہ کیوں بنا رہے ہو‘‘ اور ’’ ہم ایسی باتوں کے بارے میں بات نہیں کرتے، جو کچھ تم محسوس کر رہے ہو خود ختم ہوجائے گا‘‘۔

نوٹ: یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ ذہنی بیماری خود مریض کے قابو میں نہیں ہوتی ہے۔

۲) خاندان، معاشرہ اور ثقافت:

پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق خدمات لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ خاندان، سماج اور ثقافتی بندھن ہیں۔ سماجی بندھن، ان کی تائید،، مطابقت اور مالی طور پر مرد پہ انحصار کرنا ایشیائی ثقافت کے بنیادی جز ہیں جنہیں مغربی ثقافت کی نسبت قدرے خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ چناچہ پاکستانی آبادی میں علاج کے دیگر کئی طریقوں پر زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور اس بات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے کہ کسی کے احساسات، خیالات اور انکے عمل، انکے نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ دواؤں کے بغیر ہونے والے علاج مثلاً سائیکو تھراپی (Psychotherapy) کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ 

۳) ذہنی بیماری سے متعلق لاعلمی اور منفی خیالات :

جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ سائیکو تھراپی (Psychotherapy) کو دواؤں سے علاج کے مقابلے میں قدرے کم مؤثراور کم اہم سمجھا جاتاہے۔ جس کی بنیادی وجہ ذہنی صحت میں نفسیات کی پُر وقار اہمیت سے لاعلم ہونا ہے۔ یہ بہت واضح ہے لوگ جسمانی علامات کے ساتھ موجود بیماریوں مثلاً بخار، کھانسی اور سر درد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور خطرناک سمجھتے ہیں بہ نسبت ذہنی مسائل جیسے اداسی، تشویش اور پریشانی، اسکیزوفرینیا وغیرہ۔ چنانچہ معاشرے کی بیماری سے متعلق لاعلمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور آگاہی اور درست معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث معاشرہ ذہنی مریضوں کے ساتھ برا برتاؤ کرتا ہے اور مسلسل حوصلہ شکنی کرتے ہوئے تنقید، اور مذاق کا نشانہ بناتاہے۔

۴) ذہنی بیمار کے ساتھ امتیازی سلوک :

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذہنی امراض کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے افراد میں سے زیادہ تر معاشرے کا مفید شہری بننے کی نہ صرف یہ کہ پوری اہلیت رکھتے ہیں بلکہ ورک فورس(Work Force) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بھی خواہش مند ہوتے ہیں۔ تاہم ۵۰ فیصد مالکان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو ملازمت پر رکھتے ہوئے شدید ہچکچاہٹ محسوس کرتیہیں جو کہ دماغی علاج کروا رہا ہو ، یہ ایک پریشان کن صورتِ حال ہے کیونکہ جس طرح ایک عام انسان کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک ذہنی مریض کو بھی گذر بسر اور علاج و معالجے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ کہیں ملازمت کر کے حاصل کرے تو بہت اچھا رہتا ہے جب کہ پورا دن اپنی ذمہ داریاں نبھانا، ذہنی بیماری مبتلا افراد کے لیے تھراپی(Therapy) کا کام کرتا ہے جس سے مریض کو مرض سے واپسی میں مدد ملتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ساتھ کام کرنے والے ملازمین کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا ساتھی ذہنی بیماری کے سلسلے میں زیر علاج ہے تو وہ ناخوشگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ تمام لوگ جو ذہنی مریضوں کو لعن طعن کرتے ہیں وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کر رہے ہوتے ہیں اور بے مطلب جملے، غلط معلومات اور علم کی کمی ایسے نقصان دہ اور دقیانوسی خیالات کا سبب بنتی ہے۔

۵) بدنامی لوگوں میں اعتماد کی کمی کا سبب بنتی ہے:

بدنامی کا ایک اور نقصان اعتماد کی کمی کی صورت میں نکلتا ہے، اگر کوئی یک طرفہ فیصلہ سناتے ہوئے مریض کو سمجھاتا رہے کہ ’’ خوش رہنا اپنے بس میں ہے‘‘ ، یا ’’ ہر کسی کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘‘ ، تو ایسی صورت حال میں ذہنی مریض اپنے اہل خانہ اور دوست احباب سے اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے ہونے والی مشکلات کے بارے میں کھل کر بات نہیں کرے گا ۔ یہ نہایت افسوسناک صورت حال ہے کیوں کہ اگر اہل خانہ اور دوست معاون ہوں تو وہ مریض کے لیے فائدہ مند اور بیماری سے لڑنے کے لیے امید اور طاقت کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذہنی بیماری تنہائی کی طرف لے جاتی ہے اور ایسے وقت میں کوئی ایک نہیں بلکہ پورا گھرانہ اور دوست احباب مل کر مریضکے لیئے آرام و سکون کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ہمدری اور اپنائیت سے مریض کو ملنے والے حوصلے سے انہیں یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ کوئی ان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑا ہے اور اسے علاج کے لیے آمادہ ہونے میں دقت محسوس نہیں ہو گی۔

۶) جادو، نظر اور سایہ :

پاکستان میں موجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کسی بھی قسم کے نفسیاتی یا ذہنی مسائل کی وجہ جادو، نظر یا سایہ ہے۔ طویل عرصے سے یہ ہماری تہذیب کا حصہ چلا آرہا ہے کہ نفسیاتی امراض کو جادو ٹونا یا جنات کا سایہ ہوجانے سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے اور بالخصوص اسکیزو فرینک مریضوں کے بارے میں پختہ یقین کرلیا جاتا ہے کہ ان کی روح کسی جن یا بھوت کے قبضے میں ہے لہذا ایسے مریضوں کے علاج کے لیے ماہر نفسیات سے مدد طلب کرنے کو کبھی ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ ماہرِ نفسیات پر کسی پیر یا فقیر کو فوقیت دی جاتی ہے ۔ 

۷) انسانی وسائل، اہلیت اور مرکزیت:

ذہنی مریضوں کے علاج میں رکاوٹ صرف سماجی یا ثقافتی عوامل ہی نہیں بلکہ باصلاحیت اور اہل رضاکاروں کی کمی بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان میں ماہر تربیت یافتہ اور باصلاحیت سائیکو تھراپسٹ یا ذہنی صحت کے ماہرین کی شدید کمی ہے جو کہ آبادی کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق چند مراکز کام کر رہے ہیں جہاں باصلاحیت ماہرین اور عملہبھی موجود ہے لیکن یہ شہروں جیسا کہ کراچی کی حد تک محدود ہیں اور دیہی علاقے بڑے پیمانے پر نظر انداز ہو رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ حکومت کا صحت کے شعبے میں کم بجٹ رکھناہے جس کے باعث تربیت اور خدمات کی فراہمی کے درمیان بڑا خلاء بن جاتا ہے۔ پاکستان میں نفسیاتی علاج کے شعبے میں درج بالا تمام مسائل کا سامنا ہے۔ مزید یہ کہ مغربی ممالک کی طرز کی تھراپی (Western Therapies) کوبنا سوچے سمجھے استعمال کرنا بھی نفسیاتی امراض کے علاج میں ایک بڑی رکاوٹ ہے حالانکہ پاکستان کی ثقافت، مذہب اور حالات مغربی ممالک سے یکسر مختلف ہیں چناچہ مغربی ممالک سے متاثر ذہنی صحت کے ماہرین کا یہ طرز عمل بھی ایک رکاوٹ ہے۔


References:

1. Scott, S., Quinn, S. (2014). One in five young people struggle with mental illness but few seek help: report - ABC News (Australian Broadcasting Corporation). Retrieved from http://www.abc.net.au/news/2014-06-18/young-people-with-mental-illness-do-not-seek-help/5530748

2. Scott, E. (2017). New research reveals people with mental illness are facing a “locked door” when it comes to getting a job. Retrieved, from http://metro.co.uk/2017/07/27/new-research-reveals-people-with-mental-illness-are-facing-a-locked-door-when-it-comes-to-getting-a-job-6808819/

3. Maki, D. R., &Tarvydas, V. M. (2011). The Professional Practice of Rehabilitation Counseling. Springer Publishing Company. Retrieved from https://books.google.com.pk



 ذہنی بیماریوں کے اکسام کے بارے میں جانیں    

  ذہنی بیماریاں