کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟

جنسی بدسلوکی

جذباتی، جسمانی اور زبانی زیادتیوں کے مقابلے میں جنسی زیادتی ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر عام طور پر بات نہیں کی جاتی حالانکہ یہ بھی دیگر اقسام کی طرح ہی ہمارے معاشرے میں عام ہے۔ ہم اس پر کھل کر بات کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ ہم نے بحیثیت ایک قوم جنسی زیادتی سے متعلق مسائل کا زیادہ اچھی طرح سامنا کیا ہے لیکن پھر بھی آج تک ہم اسے ذلت اور شرم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا شکار ہونے والے افراد نہیں چاہتے کہ زیادتی سے متعلق انکی داستان کسی او رکے علم میں آئے کیونکہ یہ ان کے لیئے شرمندگی، توہین اور ذلت کا سبب بنتا ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم اس زیادتی کے شکار افراد کو ہی اس کے لیئے قصوروارٹھہراتے رہتے ہیں۔ ہماری ہمدردی اور تشویش اس انسان کے لیئے کیوں نہیں ہوتی جو کہ اس کا شکار ہوا ہے؟ اس موضوع پر بات کرنا اب تک ہمارے معاشرے میں ایک ممنوعہ حیثیت رکھتا ہے اور اسکے شکار افراد اس سے متعلق کسی الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔

لوگ اکثر جنسی زیادتی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مابین الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ جنسی طور پر ہراساں کرنے میں اَن چاہی ترغیبات شامل ہیں جو کہ جنسی حیثیت رکھتی ہوں مثلاً کسی کی مرضی کے خلاف اسے چھونا، بلا ضرورت کسی دوسرے انسان کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرنا، کسی کو تنگ کرنا یا ایسے جملے کسنا جس میں کچھ ایسا مواد شامل ہو جو کہ اخلاقی طور پر قابلِ قبول نہیں وغیرہ۔ لیکن یہ ایک تفصیلی فہرست نہیں۔ دوسری طرف جنسی زیادتی میں رضامندی کے بغیر ہونے والے جنسی عوامل مثلاً عصمت دری، اور نا مناسب انداز میں کسی کو چھونا شامل ہیں۔ جنسی طور پر ہراساں کرنا، جنسی زیادتی کی طرف پہلا قدم ہے اور جو لوگ اس پر خاموش رہتے ہیں انہیں اکثر اوقات جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے لیئے ہمارا معاشرہ انتہائی بے رحم ہے۔

جنسی زیادتی میں بچے اور بڑے سب شامل ہوتے ہیں۔ بچوں کو مختلف جنسی سرگرمیوں کے لیئے زبردستی مجبور کیا جاتا ہے اور پھر انہیں شرم و حیا کا احساس دلایا جاتا ہے تاکہ وہ اس واقعے کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ بالغ افراد کو بھی ان سرگرمیوں میں زبردستی شامل کیا جاتا ہے لیکن اس واقعے میں ہونے والی زیادتی میں ملوث افراد طاقت یا حیثیت کے حوالے سے اس کے شکار افراد پر حاوی ہوتے ہیں۔ اس زیادتی میں شامل افراد اکثر رشتہ دار یا پھر اجنبی افراد ہوتے ہیں اور یہ اکثر ایک دفعہ ہونے والی کہانی نہیں ہے۔

جنسی زیادتی کی کچھ اور اقسام ایسی ہیں جو کہ دیگر اقسام کے مقابلے میں بہت عام ہیں۔ شادی کے رشتے میں ہونے والی عصمت دری، جنسی زیادتی کی ایک قسم ہے جس میں حاوی یا برتر شریکِ حیات اپنے کمزور ساتھی کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ ایک معمول کی بات ہے لیکن اسکا اندراج نہیں کیا جاتا کیونکہ اکثر لوگ اس بات پر دھیان ہی نہیں دیتے کہ وہ عصمت دری کا شکار ہوئے ہیں۔ جنسی زیادتی کی ایک اور قسم والدین، بہن بھائی، کزن یا دیگر قریبی رشتے داروں کا خاندان کے کمزور افراد کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور انہیں جنسی سرگرمیوں کے لیئے مجبور کرنا ہے۔ اس کیفیت میں ا س کے شکار افراد کو جذباتی زیادتی کا احساس اور پچھتاوا اپنے گھیرے میں لیئے رکھتا ہے اور وہ کبھی بھی اس کیفیت سے باہر نہیں آ پاتا۔ آخر میں جنسی زیادتی کی ایک اور قسم جسے بُری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے وہ جانوروں کے ساتھ کی جانے والی جنسی سرگرمیاں ہیں۔ جانوروں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی میں ان کے ساتھ زبردستی کیے جانے والے جنسی اعمال شامل ہیں جو کہ ہمارے نچلے سماجی اور معاشی طبقات میں معمول کی بات ہے۔

جنسی زیادتی اتنی عام کیوں ہے؟ جنسی زیادتی، اس میں ملوث افراد کے لیئے تسکین اور اطمینان کا سبب بنتی ہے جس میں دو عناصر شامل ہیں۔ پہلا تو تسکین کا وہ احساس جو کہ اس میں ملوث افراد محسوس کرتے ہیں اور دوسر اعنصر طاقتور اور حاوی ہونے کا احساس ہے۔اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جنسی زیادتی نظریاتی طور پر جسمانی، جذباتی اور زبانی بدسلوکی سے بالکل مختلف ہے اور بدسلوکی کی دیگر اقسام کے مقابلے میں اس سے نمٹنا سب سے زیادہ مشکل ہے۔

 بدسلوکی کے بارے میں اور معلومات حاصل کریں اور اسے نمٹنے کے طریکے پڑھیں     

  زیادتی کے بارے میں چند باتیں