زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ

زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی): خطرات، تشخیص اور علاج

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں تو آپ کو چاہیئے کہ آپ اس کی علامات کا مطالعہ کریں اور اپنی علامات کے ساتھ ان کا موازنہ کریں، اور تھراپی کی صورت مدد حاصل کریں۔
پی پی ڈی کو کبھی بھی بے بی بلیوز (بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے مزاج میں ہونے والی تبدیلیاں) کے ساتھ نہیں ملانا چاہیئے کیونکہ یہ دونوں الگ کیفیات کے نام ہیں۔ پی پی ڈی ایک پیچیدہ دماغی حالت ہے جس میں مختلف قسم کی جسمانی، جذباتی اور برتاؤ میں ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں جو کہ بچے کی پیدائش کے بعد ایک عورت میں رونما ہوتی ہیں۔ پی پی ڈی کے اثرات بہت سنگین ہوسکتے ہیں جو کہ تمام خاندان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پی پی ڈی اس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کہ یہ نوزائیدہ بچے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کا اثر بچے پر پوری زندگی رہتا ہے۔
تو پی پی ڈی کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کی تشخیص کیسے ممکن ہے؟ اس کے علاج کے طریقے کیا ہوسکتے ہیں؟


خطرے کے عوامل:


ان عوامل میں ماں کے ماضی میں ذہنی دباؤ اور ذہنی پریشانی کی کیفیت ، حمل کے متعلق اس کے خیالات، حمل قرار پانے میں دشواری، ایک سے زائدبار زچگی، بچے کو دودھ پلانے میں دشواری، یا بچے کی آنتوں میں درد ہونا خطرے کی علامات ہوسکتی ہیں۔
ایک صدمات سے بھرپور حمل یا زچگی بھی پی پی ڈی کا سبب بن سکتی ہے۔
دباؤ کی اہم وجوہات میں نوکری جانے کا خوف، مالی مشکلات، طلاق ہوجانے کا ڈر، رشتے میں کھنچاؤ کی کیفیت شامل ہیں جو کہ آپ کی ذہنی صحت پر بُری طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
ایسی تمام مائیں جنہیں ان کے شریکِ حیات اور معاشرے کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل نہیں ہوتا، وہ خود کو ان جذبات کے گھیرے میں محسوس کرتے ہوئے اکیلا پن محسوس کرتی ہیں اور پی پی ڈی کا شکار ہوجاتی ہیں۔
اس کے علاوہ، یہ کیفیت اس وقت بھی ہوسکتی ہے کہ جب ماں باپ کا رشتہ مضبوط نہ ہو اور بچوں کے بارے میں ان کے خیالات ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔


تشخیص

پی پی ڈی کے شدید نقصانات سے بچنے کے لیئے کچھ معائنے اور جانچ پڑتال کی جاتی ہے جس کی مدد سے حمل کے دوران اور اس کے بعد ذہنی دباؤ کی کیفیت معلوم کی جاسکتی ہے۔ ذہنی معالج پی پی ڈی کے شناخت کے لیئے بہتر انداز میں کام کرسکتے ہیں کیونکہ پی پی ڈی کو اکثر بے بی بلیوز (بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے مزاج میں ہونے والی تبدیلیاں) کی علامات کے ساتھ ملادیا جاتا ہے۔ لیکن بہت سی خواتین اپنی گائنا کالوجسٹ یا خاندانی معالج سے رابطہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ خواتین کے لیئے یہ بہت ضروری ہے کہ انہیں اس بارے میں مناسب آگہی فراہم کی جائے تا کہ وہ ان دونوں کیفیات میں فرق واضح طور پر محسوس کرسکیں۔


یہ معائنہ زچگی کے چار (۴) ہفتے بعد کروانا چاہیئے کیونکہ اس وقت تک بے بی بلیوز (بچے کی پیدائش کے وقت ماں کے مزاج میں ہونے والی تبدیلیاں) کی کیفیت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ اس معائنے کے لیئے سب سے کامیاب آلہ ایڈن برگ پوسٹ نیٹل ڈپریشن اسکیل (EPDS) ہے جو کہ دس (۱۰) اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ذاتی رپورٹ کی شکل میں موجود ہوتا ہے۔اس قسم کے معائنے کے لیئے کچھ مزید آلات بھی موجود ہیں جن میں پوسٹپارٹم ڈپریشن اسکیریننگ اسکیل (PDSS ) اور نائن آئٹم فزیشن ہیلتھ کوئسچنر (PHQ - 9) شامل ہیں۔ پی پی ڈی کی تشخیص مشکل ہوسکتی ہے اسی لیئے آپ کو چاہیئے کہ کسی سائیکولوجسٹ یا سائیکاٹرسٹ سے رابطہ کریں۔


علاج


اگر آپ پی پی ڈی کا شکار ہیں تو آپ کے علاج کا طریقۂ کار آپکے ذہنی دباؤ کی شدت کے مطابق تبدیل ہوسکتا ہے۔ اگر آپ ہلکے سے درمیانی درجے کے پی پی ڈی کا شکار ہیں تو آپ سائیکو تھراپی کی مدد لے سکتے ہیں لیکن اگر آپ درمانے سے شدید درجے کے پی پی ڈی کا شکار ہیں تو ہمارا مشورہ ہے کہ آپ فارماکوتھراپی کی مدد لیجیئے کیونکہ یہی آپ کے لیئے بہترین انتخاب ہے۔

ہلکے اور درمیانی درجے کے پی پی ڈی کے لیئے، ماؤں کو کسی ایسے ذہنی معالج سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے جو کہ سائیکو تھراپی کرنے کے لیئے لائسنس یافتہ ہو۔ ہلکے پی پی ڈی کے علاج کے سب سے بہترین طریقۂ علاج میں باہمی گفتگو کے ذریعے تھراپی ((Interpersonal Therapy (IPT)، رویہ کے برتاؤ کے ذریعے تھراپی ((Cognitive Behavior Therapy (CBT) اور خاندان کی تھراپی شامل ہیں۔


باہمی گفتگو کے ذریعے تھراپی ((Interpersonal Therapy (IPT ) میں ماں کو درپیش کسی بھی چار (۴) مسائل پر توجہ دی جاتی ہے جو کہ اس کے لیئے پی پی ڈی کی وجہ بن رہے ہوں۔ مثال کے طور پر ایک اکیلی عورت سے ایک ماں ہونے کے کردار میں تبدیلی، اس تبدیلی سے متعلق اندرونی کھنچاؤ، اور باہمی تعلقات کی کمی وغیرہ۔ گفتگو کے ذریعے تھراپی اس قدر فائدہ مند ہوتی ہے کہ مائیں صرف ۸ سے ۱۰ ملاقاتوں میں ہی واضح فرق محسوس کرنے لگتی ہیں۔


رویہ کے برتاؤ کے ذریعے تھراپی ((Cognitive Behavior Therapy (CBT) ایک ایسی تھراپی ہے جس کے بارے میں آپ پہلے سے جانتے ہوں گے کیونکہ یہ ذہنی دباؤ کے لیئے بہترین اور سب سے موثر طریقۂ علاج ہے۔ سی بی ٹی میں تمام تر توجہ ماں کے دماغ سے منفی خیالات ختم کرنے اور اس کی اپنی ذات ، دنیا اور اپنے بچے کے متعلق خیالات تبدیل کرنے پر ہوتی ہے۔ اس سے اسے اپنی مشکلات سے باہر نکلنے اور اپنی پریشانی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
خاندان کی تھراپی بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں تمام تر توجہ صرف ماں پر مرکوز نہیں ہوتی بلکہ اس طریقۂ علاج میں خاندانی رشتوں کو مضبوط بنانے پر بھی کام کیا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ علاج ماں کی زندگی سے تنہائی کا عنصر ختم کرتا ہے اور ماں کے لیئے ایک ایسا سماجی رابطے کا جال پھیلانے کی کوشش کرتا ہے جس کی مدد سے وہ اپنی مشکلات سے باہر نکل سکے اور تعاون حاصل کرسکے۔


تقریباً ۱۰ فیصد خواتین زچگی کے بعد تھائی رائیڈ کی بیماری کا شکار ہوجاتی ہے۔ تھائی رائیڈ کی بیماری ذہنی دباؤ اور بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر ماں ذہنی دباؤ اور بے چینی کی علامات محسوس کر رہی ہو تو تھائی رائیڈ کے امکان کو مسترد کرنے کے لیئے ، زچگی کے چھ مہینے کے بعد تھائی رائیڈ کا ایک ٹیسٹ ہونا ضروی ہے۔
اومیگا تھری فیٹی ایسڈ  Omega-3 Fatty Acids)  )  بھی ایسی خواتین کے لیئے بہت فائدہ مند ہے جن کے بچے کی ولادت متوقع ہے۔ یہ ہلکے اور درمیانے درجے کے پی پی ڈی کے علاج کے لیئے بہت مؤثر ہے۔ اس کی ۳۰۰۰ ۔ ۱۰۰۰ ملی گرام خوراک ڈی ایچ اے (DHA) اور ای پی اے (EPA) کے ساتھ دینا فائدہ مند ہے اور یہ علاج کے لیئے محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ کچھ معالج پی پی ڈی کی نوعیت دیکھتے ہوئے اس کی ۹۰۰۰ ملی گرام تک کی خوراک کا مشورہ دیتے ہیں ۔ یہ سائیکو ٹراپک میڈیکیشن کے ساتھ استعمال کی جاسکتی ہے۔


کچھ حالیہ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہلکے اور درمیانے درجے کے پی پی ڈی کے لیئے آکیوپنکچر، چمکتی روشنی کے ذریعے تھراپی اور یوگا جیسی مشقیں بھی فائدہ مند ہیں جو کہ زچگی اور اس کے بعد خواتین میں پیدا ہوجانے والے ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ سینٹ جان کی تحقیق زچگی کے بعد خواتین میں موجودہلکے اور درمیانے درجے کی پی پی ڈی کی علامات دور کرنے میں فائدہ مند ہوسکتی ہے لیکن حمل کے دوران ان کا ستعمال نہیں کی جاسکتا کیونکہ حمل کی حفاظت کے متعلق مزید تحقیق جاری ہے۔ دیگر طریقۂ علاج میں امائینو ایسڈ کی مدد سے علاج شامل ہے۔ ۵۔ایچ ٹی پی اور ایس اے ایم ۔ ای دونوں ہی اس لحاظ سے تصدیق شدہ ہیں اور ان کے لیئے ڈاکٹر کی تجویز کی ضرورت نہیں۔ دیگر کئی ڈپریشن کی دواؤں کی طرح، انہیں بھی عورتوں کے علاج میں مکمل طور پر استعمال نہیں کیا جاتا۔ مزید معلومات کے لیئے آپ اپنے معالج سے رابطہ کریں۔


شدید درجے کا پی پی ڈی نا صرف ماں بلکہ بچے کے لیئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں نا صرف ذہنی دباؤ کی شدید کیفیت شامل ہوسکتی ہے بلکہ خودکشی کا عنصر بھی موجود رہتا ہے۔ اکثر مائیں ذہنی دباؤ سے لڑنے والی دوائیں استعمال نہیں کرتیں کیونکہ وہ اپنے بچے کو ان کے خطرات سے بچانا چاہتی ہیں لیکن دواؤں کا استعمال ہی اس درجے کے پی پی ڈی سے نجات پانے ایک ذریعہ ہے۔ سائکاٹرسٹ اس معاملے میں ان دواؤں کے استعمال پر نظر رکھ سکتا ہے تا کہ اس کے منفی اثرات بچے پر اثر انداز نہ ہوں۔ آپ کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے معالج کے ساتھ تمام طے شدہ دنوں پر ملاقات کریں تاکہ آپکا علاج آگے بڑھ سکے اور آپ کے بچے کا بھی معائنہ کیا جاسکے تا کہ اس پر ہونے والے اثرات کا وقت سے پہلے اندازہ لگایا جاسکے۔



حوالہ جات


۱) فیٹلسن اے، کم ایس، بیکر ای ایس اور لے کے، (۲۰۱۱) ، زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ کا علاج، طبی، ذہنی اور دواؤں کا انتخاب، انٹرنیشنل جرنل آف وومن ہیلتھ http://doi.org/10.2147/IJWH.S6938
۲) فیلڈ ٹی (۲۰۱۷) ، زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی): خطرات، تشخیص اور علاج: ایک جائزہ
۳) اوہارہ ایم ڈبلیو (۲۰۰۹) ، زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی): ہم کیا جانتے ہیں؟ ، جرنل آف کلینکل سائیکولوجی
۴) تھر گوڈ ایچ، ایوری ڈی ایم اور ولیمسن ایل (۲۰۰۹) ، زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی) ، امریکن جرنل آف کلینکل میڈیسن http://www.aapsus.org/wp-content/uploads/Postpartum-Depression.pdf سے حاصل کردہ
۵) تھامپسن کے ایس اور فوکس جے ای (دسمبر ، ۲۰۱۰)، زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی): تشخیص اور علاج کے لیئے ایک جامع نقطہ نظر ، وائٹ اے: پی پی ڈی کے علاج کے اختیارات سے حاصل کردہ۔ http://www.aapsus.org/wp-content/uploads/Postpartum-Depression.pdf سے حاصل کردہ