کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟

جسمانی بدسلوکی

مار پیٹ کرنا یا تھپڑ رسید کردینا کچھ جسمانی زیادتیوں کے نام ہیں۔ یہاں درج کیے گئے ان رویوں کا شکار ہوجانے کی وجوہات مختلف واقعاتی اور نفسیاتی عوامل کا ایک مرکب ہے جن کا اصل نشانہ ایک بے ضرر مظلوم بنتا ہے۔ یہ ایک صدماتی تجربہ ہے جو کہ انسان کی طبیعت میں لچک کی کمی کی علامات کو ظاہر کرسکتا ہے۔ جسمانی زیادتی یا بدسلوکی مختلف رشتوں میں محسوس کی گئی ہے لیکن کچھ خصوصیات ایسی ہیں جو کہ تمام زیادتی کرنے والوں میں موجود ہوتی ہیں۔

۱) آپے سے باہر ہوجانا: ہم سب کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب ہم شدید غصہ اور جھنجھلاہٹ محسوس کرتے ہیں اور کسی کو مارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہماری شدید خواہش ہوتی ہے کہ جو انسان ہمارے اس غصے کی وجہ ہے ہم اسے جسمانی طور پر نقصان پہنچائیں، لیکن یہ محض وقتی جذبات ہوتے ہیں اور ہم جلد ہی خود پر قابو پالیتے ہیں۔ البتہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے اور خود پر قابو نہ رکھ پانا جسمانی زیادتی یا بدسلوکی کا سبب بنتا ہے۔ اس وقت کے بارے میں سوچیئے جب کہ آپ کے شریکِ حیات نے ایک گرما گرم بحث کے دوران آپ پر ہاتھ اٹھایا ہو۔ یہ کیفیت واقع ہوتی ہے جب کہ وہ خود پر قابو کھو دیتے ہیں اور ایسا محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے انسان پر حاوی رہنے کا واحد طریقہ جسمانی طور پر تکلیف پہنچانا ہی ہے۔ اور یہ ہمیں ہماری اگلی خصوصیت کی طرف لے جاتا ہے۔

۲) معلومات کی کمی: اختلافات ، غلط فہمیوں اور بُرے خیالات اور جذبات کو سنبھالنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے، کچھ لوگ اس سے بھاگ جاتے ہیں جبکہ کچھ انکا سامنا کرتے ہیں اور سمجھ داری کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جب حالات کو صحیح طور پر نہ سنبھالا جائے تو اس میں جسمانی زیادتی یا بدسلوکی کا پہلو بھی شامل ہوجاتا ہے۔ جسمانی زیادتی یا بدسلوکی کی اصل وجہ اپنی ذات اور اپنے جذبات پر قابو نہ رک پانا ااور آپے سے باہر ہوجانا ہے جو کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ اپنے احساسات کو دوسروں تک پہنچانے کے طریقۂ کار ، غصے اور برے خیالات کا بے ضرر انداز میں طریقۂ اظہاراور جسمانی زیادتی اور بدسلوکی کے خاندانی زندگی پر ہونے والے تباہ کن اثرات کے بارے میں معلومات کی کمی ، یہ وہ تمام عوامل ہیں جن کی وجہ سے ایک انسان جلد ہی ہاتھ اٹھانے اور دوسروں کو تکلیف دینے کا رویہ اختیار کرلیتا ہے۔ کوشش کیجیئے اور کسی ایسے ماں باپ کے بارے میں سوچیئے جو کہ اپنے تین سالہ بچے کے ساتھ اس لیئے مار پیٹ کر رہے ہوں کیونکہ اس نے صوفے پر پانی گرادیا ہے یا کسی ایسے شریکِ حیات کے بارے میں غور کیجئے جو کہ اپنے ساتھی کو صرف اس لیئے مار پیٹ کا نشانہ بنارہے ہوں کیونکہ وہ ان کا دیا ہواکوئی کام کرنا بھول گئے ہیں۔ اس بات کے سمجھنے میں کمی کہ کس طرح ایک رشتے کو خراب کیے بغیر اپنے غصے پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے، ان دونوں اور اس جیسے دوسرے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔

۳) فاتح انسان: جسمانی زیادتیوں کے تقریباً تمام واقعات میں نقصان پہنچانے والا انسان فاتح قرار پاتا ہے۔ اکثر اوقات لوگ یہ جانتے ہیں کہ اپنے غصے پر کس طرح قابو پایاجائے اور انکا اپنی ذات پر قابو برقرار رہتا ہے، لیکن جسمانی طور پر نقصان پہنچانا ہمیشہ جیت کا سبب بنتا ہے۔یہ وجہ جسمانی زیادتی یا بدسلوکی کے قائم رہنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ نقصان پہنچانے والے کو ایک برتر اور مظلوم انسان کو کمتر حیثیت میں کھڑا کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر سفاک صفت انسان جسمانی زیادتی میں ملوث ہوتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اپنی برتری برقرار رکھنے اور اپنی طاقت کا اظہار کرنے کا یہ ایک واحد طریقہ ہے۔ والدین بھی اکثر اپنی اولاد کو تھپڑ یا مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں تا کہ اپنی بات منوا سکیں اور حالات کو اپنے مطابق ڈھال سکیں۔ ایک شریکِ حیات اپنے ساتھی پر تشدد اور زخم کے نشانات چھوڑ دیتا ہے جو کہ اس کے خیال میں اسکی برتری کی علامت ہیں۔ اسی لیئے بہت سے لوگ جسمانی تشدد یا بدسلوکی کی راہ اپناتے ہیں۔

مظلوم انسان اکثر مارے جانے، تھپڑ کھانے اور مار پیٹ کی وجوہات سے بے خبر ہوتا ہے اور اکثر اوقات ظالم انسان بھی ان تمام وجوہات سے بے خبر رہتا ہے جنکی وجہ سے وہ جسمانی طور پر شدید رویہ اپنانے پر مجبور ہواہو۔ اکثر اوقات مظلوم انسان اس تمام صورتِ حال کے لیئے خود کو ذمہ دار سمجھتا ہے اور اس طرح کے تمام حالات کے لیئے خود کو مجرم تصور کرتا ہے۔ اس رویہ کی وجہ سے ظالم کی جانب سے مظلوم کی شخصیت اور ان کے درمیان موجود رشتے کے لیئے عدم تحفظ پیدا ہوجاتا ہے۔

حالانکہ بہت سے لوگ جسمانی زیادتی میں ملوث ہیں لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ اس طرح کے واقعات بے ضرر مظلوم افراد کے ساتھ ہی پیش آتے ہیں۔ اگر ایک شریکِ حیات کو اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ ان کے ساتھی میں پلٹ کر جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے تو ایسی کیفیت میں جسمانی زیادتی کے واقعات میں حد درجہ کمی آجاتی ہے۔ جس وقت ظالم کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اس نے ایک غلط انسان کو تنگ کیا ہے تو وہ ایک نیا شکار ڈھونڈنے لگ جاتا ہے۔ جس لمحے والدین کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ انکی مار پیٹ جوابی کاروائی کا سبب بن رہی ہے تو ان کے اس رویئے میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ البتہ اگر ظالم انسان اپنے غصے اور ظلم کے رویئے کو چھوڑ بھی دے تب بھی رشتوں پر اس کا اثر برقرار رہتا ہے۔

اوپر درج حالات صرف دوسرے انسانوں کے حوالے سے تکلیف کا سبب نہیں بنتے بلکہ یہ زیادتی جس حد تک دوسرے انسانوں کے لیئے تکلیف کا سبب بنتی ہے اسی طرح خود انسان پر بھی مہلک اثرات مرتب کرتی ہے، اس طرح کی جسمانی زیادتی صرف جسمانی طور پر نقصان دہ نہیں ہوتی بلکہ یہ مظلوم کے لیئے مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ کشیدگی، عدم تحفظ ، پریشانی اور تشویش کا سبب بنتی ہے۔ جسمانی زیادتی، زیادتی اور بدسلوکی کی ایک قسم ہے جس میں جذباتی زیادتی کا عنصر بھی شامل ہے۔ گھریلو تشدد، جسمانی زیادتی کی سب سے عام اقسام میں سے ایک ہے۔ جسمانی زیادتی کسی بھی جگہ مثلاً اسکول، سڑک یا کسی بھی اور جگہ پر واقع ہوسکتی ہے۔


 زبانی بدسلوکی بھی جسمانی بدسلوکی جتنی تکلیف دیتی ہے، آگے پڑھیں   

  زبانی بدسلوکی