خوشی

پرما (پی .ای .آر .ایم .اے )اور خوشی

سکون ہمیشہ اندر سے ملتا ہے۔ اسے باہر تلاش نہ کرو۔۔۔ بدھا

خوشی کیا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچاہے کہ خوشی کیا ہے اور یہ آپ کے لیئے کتنا معنی رکھتی ہے؟کیا آپ کبھی بھی خوشی کا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جسے آپ اپنے لیئے خوشی کا راستہ سمجھتے ہیں دیگر لوگ بھی اس راستے پر چل کر خوشی حاصل کرسکیں گے؟
خوشی ایک ایسا پیمانہ ہے جس میں کوئی انسان اپنی مجموعی زندگی کا بہتر معیار تولتاہے۔(وین ہوون، ۱۹۸۴)

خوشی انسانی شخصیت کی انفرادیت کی وجہ سے مختلف لوگوں کے لیئے مختلف چیزوں کا نام ہے۔ تو کیا خوشی کسی طے شدہ معیار کے مطابق حاصل کی جاسکتی ہے؟ مارٹن سیلگمین جو کہ مثبت سائیکولوجی کے باپ تصور کیئے جاتے ہیں، ان کا یہ یقین ہے کہ پرما (پی .ای .آر .ایم .اے) ایک ایسا طریقہ ہے کہ جس کو خوشی حاصل کرنے کے لیئے ایک معیار کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔


پرما (پی .ای .آر .ایم .اے) کیا ہے؟

مارٹن سیلگمین نے ایک نظریاتی خاکہ پیش کیا جسے پرما (پی .ای .آر .ایم .اے) کہا جاتا ہے۔ اس کے پانچ بنیادی عناصر مثبت جذبات، مصروفیات، رشتے، معانی اور کامیابی ہیں۔

مثبت جذبات پہلا اور سب سے اہم حصہ ہے جو کہ کسی بھی انسان کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ پرما کے مطابق، اگر ایک انسان اپنی تمام زندگی مثبت جذبات اور احساسات کی طرف متوجہ رہے تو یہ خوشی کی جانب اس کا ایک قدم ہوگا۔ اس کا راز یہ ہے کہ اپنے جذبات اور احساسات کو تسلیم کریں، اپنے ماضی کے اچھے واقعا ت پر شکر گزار رہیں، اپنے حال میں موجود تمام اچھے لمحات کو محفوظ کرتے رہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُر امید رہیں۔ آپ اپنی بہتری میں خود ایک کردار ادا کرسکتے ہیں اگر آپ اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ دیں، اچھی یادوں ار بہترین لمحات کو یاد رکھیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہونا چھوڑدیں۔

مصروفیات کا مطلب انسان کا اپنی تمام تر صلاحیتوں اور طاقتوں کو بروئے کار لا کر کسی مشکل کام کا کرنا اور کبھی کبھی اسے تکمیل تک پہنچاناہے۔ اس کے نتیجے میں ملنے والی خوشی نا صرف انسان کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتی ہے بلکہ یہ انسان کی شخصیت پر بھی ایک مثبت اثر ڈالتی ہے۔ صحیح معنی میں مصروفیات کا مطلب یہ ہے کہ کسی کام کوکرنے کے لیئے انسا ن اپنے وقت اور اپنی ذات تک سے غافل ہوجائے اور اس کی تمام تر توجہ اس کے کام پر مرکوز ہو۔ کیا آپ کی زندگی میں ایسے لمحات آئے ہیں کہ جہاں آپ نے محسوس کیا ہو کہ آپ دنیا اور وقت سے مکمل طور پر غافل ہوگئے کیونکہ آپ کسی ایسے کام میں مصروف تھے جس میں آپ کو لطف آرہا ہو؟ (مثلاً کوئی ساز بجانا، کوئی کتاب پڑھنا، کوئی آلہ بنانا وغیرہ)۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگا ہو کہ آپ نے ابھی اس کام میں کچھ ہی منٹ صَرف کیئے ہیں جبکہ حقیقت میں آپ کئی گھنٹوں سے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوں اور وہ سرگرمی سرانجام دے رہے ہوں۔ اس حد درجہ اور مکمل طور پر ڈوب جانے والی کیفیت کو بہاؤ کہتے ہیں اور اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ جو لوگ بہاؤ کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ وقت رک چکا ہے اور وہ کسی قسم کی اضافی محنت کے بغیر اپنا کام مکمل کرسکتے ہیں۔

ہم انسان تمام زندگی دوسرے لوگوں سے رابطہ رکھنے کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بومسٹر اور لیری (۱۹۹۵) کہتے ہیں کہ انسانوں کے لیئے یہ ایک قدرتی بات ہے کہ وہ دیگر لوگوں کے ساتھ طویل مدتی رابطوں کے خواہش مند ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ انسانی فطرت میں موجود جڑے رہنے یا منسلک رہنے کی خواہش ہے۔ یہ باہمی تعلقات، انسان میں مثبت جذبات جیسا کہ خوشی، اطمینان کو بڑھادیتا ہے اور زندگی کے مقاصد حاصل کرنے میں ایک حوصلہ افزا پہلو شامل کردیتا ہے۔ آپ نے اکثر یہ محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ ان لوگوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں کہ جن سے آپ محبت کرتے ہیں، آپ ایک خوشی اور امید محسوس کرتے ہیں اور آپ کو ہمت ملتی ہے کہ آپ اپنی زندگی میں مزیدبہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ جب آپ اپنے قریبی لوگوں کے درمیان وقت گزارتے ہیں توآپ جسمانی اور ذہنی طور پر خود کو بہتر محسوس کرتے ہیں؟ ہارڈورڈ اسٹڈی آف اڈلٹ ڈویلپمنٹ نے تقریباً ۸۰ سال تک تحقیق کی ہے جس کا بنیادی مقصدیہ معلوم کرنا تھا کہ زندگی میں وہ کون سا ایسا عنصر ہے جو کہ انسان کو حقیقی خوشی فراہم کرتا ہے، اور اس کا جواب تھا، رشتے۔ تحقیق کے مطابق، لوگ ایک طویل اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں اگر انکا اپنے خاندان اور دوستوں سے رشتہ مضبوط ہو۔ انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت اس کے سماجی رابطوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق لوگوں کی زندگی کا دورانیہ کم ہوتا ہے با نسبت ان لوگوں کے جن کے لوگوں کے ساتھ رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔
تحقیق کا ایک اور نتیجہ یہ تھا کہ جو لوگ مستحکم رشتے قائم نہیں رکھ پاتے، وہ ذہنی اور جسمانی طور پر صحت کے مسائل کا شکار رہتے ہیں۔




اکی جائز، ایک جاپانی نظریہ ہے جو کہ انسان کی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کے عناصر کے بارے میں بیان کرتا ہے۔ فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کو بامعنی بنانا چاہیئے کیونکہ اسی کی مدد سے انسان دنیا میں اپنی موجودگی کا سبب جانتا ہے اور اس کے مطابق اپنے رویے میں تبدیلی لاتا ہے۔ زندگی با معنی ہوجاتی ہے جب کہ انسان کی تمام تر توجہ اپنی ذات سے ہٹ کر اس کا دھیان کسی بڑے عنصر پر ہو جیسا کہ دیگر لوگ اور دنیا۔ یہ رابطہ ایک ایسا تعلق ہے جو کہ انسان کو نا صرف خود سے جوڑتا ہے بلکہ انسان کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی جگہ کا جائزہ لے سکے۔ یہ رابطہ، معاشرے کے مختلف گروہ (مثلاً مذہب، ذات پات، تہذیب کی بنیاد پر اکھٹا ہونے والے لوگ) سے منسلک ہونے پر قائم کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی زندگی کابنیادی مقصد صرف آپ کے ذاتی مقاصد کا حصول نہیں ہے بلکہ یہ اس دنیا میں آپ کی موجودگی کے مقصد کو بھی بیان کرتا ہے اور اگر آپ اسے جان لیتے ہیں تو یقیناًخوشی اور بہتری کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔

کامیابی بظاہر مثبت جذبات، رشتے اور زندگی کے معانی جاننے کے لیئے ایک فوری ذریعہ نہیں ہے لیکن لوگ اسے اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں کیونکہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کا احساس لوگوں کو خوشی فراہم کرتا ہے اور یہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے متعلق ہوسکتا ہے جیسا کہ کاروبار، تعلیم، شوق، ذاتی زندگی کا کوئی معاملہ یا پھر اور کوئی بھی ایسا کام جس میں انسان کو اپنا وقت صرف کرنے کا مقصد سمجھ آرہا ہو۔ آپ شاید اس تجربے سے گزر چکے ہونگے کہ آپ نے بے حد خوشی محسوس کی ہو جبکہ آپ نے کوئی امتحان اچھے نمبر سے پاس کیا ہو، آپ کو نوکری ملی ہو، کوئی دوڑ جیت لی ہو، کسی کو بحث میں ہرایا ہو وغیرہ۔ دوسرے لوگوں یا ماحولیاتی عناصر سے سبقت لے جانے کی یہ کیفیت میں انسان کو حد درجہ خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اس بات کا خیال رکھنا انتہائی اہم ہے کہ ہر انسان اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان انفرادی خصوصیات کی بناء پر، کچھ لوگ کسی ایک واقعے یا حالات سے بہت زیادہ خوشی حاصل کریں گے جبکہ دیگر لوگوں کے لیئے کوئی دوسرا پہلو زیادہ خوشی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی میں بہتری کی طرف جانا چاہتے ہیں اور خوشی محسوس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیئے کہ ان تمام پانچ عناصر پر غور کریں اور اپنی ذاتی زندگی کی ضرورت، انتخاب، اپنی صلاحیت اور دلچسپی کیے مطابق انہیں اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔

حوالہ جات
۱) بومسٹر آر ایف، لیری ایم آر، تعلق کی ضرورت:ایک بنیادی انسانی فطرت کے مطابق دیگر لوگوں کے ساتھ جڑے رہنے کی خواہش
https://pdfs.semanticscholar.org/5744/8ececb4f70edd8b31ab1fc9625b398afcd29.pdf
سے حاصل کردہ
۲) مینیو ایل (۵ جنوری ۲۰۱۸) تقریباً ۸۰ سال سے ہارڈورڈ کی تحقیق یہ بتا رہی ہے کہ کیسے ایک خوش و خرم زندگی گزاری جاسکتی ہے۔
https://news.harvard.edu/gazette/story/2017/04/over-nearly-80-years-harvard-study-has-been-showing-how-to-live-a-healthy-and-happy-life/
سے حاصل کردہ
۳) پرما ۔۔ خوش رہنے کا نظریہ ۔۔ اور پرما ورکشاپ
https://ppc.sas.upenn.edu/learn-more/perma153-theory-well-being-and-perma153-workshops
سے حاصل کردہ
۴) رینی ایل، زندگی میں مقصد کی تلاش: مقصد کی کھوج، تلاش کرنے کا عمل، اور مقصد کی بے چینی، ماسٹر آف اپلائیڈ پوزیٹو سائیکولوجی (ایم .اے.پی.پی) کیپسٹن پروجکٹ
https://repository.upenn.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=1061&context=mapp_capstone
سے حاصل کردہ
۵) تامر ایم، شوارٹز ایس ایچ، اوئشی ایس اور کم ایم وائی (۲۰۱۷) : خوشی کا راز پانے کے ثانوی عناصر: اچھا محسوس کرنا یا صحیح محسوس کرنا: جرنل آف ایکسپیریمنٹل سائیکو لوجی : جنرل
https://www.apa.org/pubs/journals/releases/xge-xge0000303.pdf
سے حاصل کردہ
۶) وین ہوون آر (۲۰۰۶)، ہم کیسے معلوم کریں کہ ہم کتنے خوش ہیں؟ تین نظریات کی تیاری، اثرات اور استحکام
https://www3.nd.edu/~adutt/activities/documents/Veenhoven_paper.pdf
سے حاصل کردہ

اگلا موضوع پڑھیں 

  ایک خوشگوار زندگی کا راز