غور ,دھیان اور فکری مراقبے

غور اور دھیان کی صلاحیت کیا ہے؟

’’ ۔۔۔سفر کے دوران جو سب سے پہلی چیز آپ سیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ کوئی بھی چیز جادوئی نہیں ہوتی جب تک کہ اسے صحیح نظر سے نہ دیکھا جائے۔ اگر ایک غصہ سے بھرے ہوئے انسان کو ہمالیہ(Himalyas) لے جائیں تو وہ وہاں کے کھانے کے بارے میں شکایت کرنے لگے گا۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ ایک متوجہ اور قدردان نظر پیدا کرنے کے لیئے آپ کو کہیں جانے کے بجائے سکون سے ایک جگہ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ اوراس ایک جگہ بیٹھنے کے ذریعے ہی ہمیں وہ چیز مل جاتی ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ چاہت ہوتی ہے اور جسے ہم سب سے زیادہ تلاش کرتے ہیں: یعنی سکون۔ اور میری نظر میں یہ ایک واحد طریقہ ہے جسکی مدد سے میں اپنے تجربات کا جائزہ لے پاتا ہوں اور اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے میں سمجھ پاتا ہوں۔ ( پیکو ائیر (Pico Iyer) - سفر مصنف ’’دا آرٹ اُف سٹلنیس The Art of Stillness ‘‘ )

موجودہ جدید دور میں جہاں زندگی افراتفری کا شکار ہے، آرام اور سکون کے لیئے وقت نکالنا مشکل ہوگیا ہے۔ ٹیکنالوجی (Technology) کا اس قدر استعمال کرنے کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں ’’ذاتی وقت‘‘ کے معنی تبدیل ہوگئے ہیں۔ اسی لیئے غورکرنا اور دھیان دینا اس فرق کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے جو کہ ایک وسیلے کے طور پر کام کرتا ہے تا کہ ہم اپنے حال میں واپس آسکیں اور اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرسکیں۔

آخرغورکرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کیا ہے؟ آسان الفاظ میں اس کا مطلب اپنے آپ کو جاننے کے لیئے اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارناہے۔ یہ ایک ذہنی حالت ہے جو کہ اپنے حال پر توجہ دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر،غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت ایک ایسا ہنر ہے جس میں ایک لمحے کو ٹھہر کر اپنے جذبات اور خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے حالیہ لمحے پر دھیان دیا جائے جبکہ ماضی اور مستقبل کے بارے میں نہ سوچا جائے اور کسی بھی چیز کو تبدیل یا قابو نہ کیا جائے اور نہ ہی کوئی رائے قائم کی جائے۔

ایک بدھشت اسکالر T.H Rhys Davids نے ۱۸۸۱ء میں غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کو اس طرح بیان کیا ’’ اس بات پر دھیان دینا جو کہ ہم آسانی سے بھول جاتے ہیں: ہمارا حال ‘‘ بعد میں جان کبات زن Jon Kabat-Zinn نے غور کرنے اور دھیان دینے کی کئی ذہنی ورزشیں ترتیب دیں اور ایک نیا خیال متعارف کروایا کہ علمی، جذباتی اور جسمانی حالت ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں اور کسی انسان کی مجموعی کارکردگی میں بھی اضافہ کرسکتی ہیں۔

حالانکہ یہ ایک ایسی عادت ہے جو کہ فطری طور پر ہر انسان میں موجود ہوتی ہے لیکن یہ ہمیں دستیاب ہوتی ہے اگر ہم روزانہ اسے دہراتے رہیں۔ جب بھی ہم اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کے ذریعے اپنے تجربات اور ذہنی حالت کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم غور کر رہے ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر کی جانے والی تحقیق کنٹیمپلیٹو سائیکو تھراپی (Contemplative Psychotherapy) پر مبنی ہے جو کہ یہ ثابت کرتی ہے کہ جب ہم اپنے دماغ کوغور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کے لیئے تیار کرتے ہیں تو ہم اصل میں دماغ کی ہیئت کے نئے نمونے تیار کرتے ہیں۔
مراقبہ کرنا غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ فکری مراقبہ ایک ایسا خیال ہے جس کو مختلف بیماریوں اور حالات و واقعات کے مؤثر علاج کی وجہ سے بہت پزیرائی ملی۔ غوروفکر کی طبی افادیت کے بڑھتے ہوئے ثبوتوں کے باوجود، سائنسی حلقوں میں اس کے علاج کے طریقوں اور علمی حلقوں میں اس پر بار بار عمل کرنے پر بحث جاری ہے۔

اپنی روزمرہ سرگرمیوں پر دھیان دینا جن میں کھانا، پینا، چلنا اور یہاں تک کہ صفائی کرنا بھی شامل ہے،ایک اچھی عادت ہے۔ کیونکہ اس کے لیئے مہنگے آلات اور اضافی چیزوں کی ضرورت نہیں اس لیئے یہ طریقہ ہر جگہ آزمایا جاسکتا ہے۔ ہر انسان اس پر عمل کرسکتا ہے کیونکہ اس میں عمر کی کوئی قید نہیں اور یہ عمل انفرادی یا اجتماعی دونوں طرح کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ۳ سالہ بچہ بھی فکری مراقبہ کرسکتا ہے۔ 

غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت اور فکری مراقبے کے درمیان فرق:

آج کل کے دور میں ’’ غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت‘‘ اور ’’مراقبہ‘‘ جیسے الفاظ کا بہت استعمال کیا جارہا ہے جس کو ذہنی صحت سے لے کر وزن کم کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے تک کے لیئے استعمال کیا جارہا ہے۔ البتہ یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی رکھتے ہیں جو کہ بنیادی طور پر ایک خیال کو ظاہر کرتا ہے ’’ اپنے منتشر دماغ کو ٹھنڈا کرنا‘‘ 
غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت اور مراقبے کے درمیان فرق تلاش کرنے کے لیئے جاری مسلسل بحث کی وجہ سے مختلف ذرائع اور مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں نے الگ الگ وضاحتیں پیش کی ہیں ۔ البتہ اس بحث میں ہم اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اور اکثر ایک ساتھ پائے جاتے ہیں اسی طرح اپنی الگ تعریف اور مقصد بھی رکھتے ہیں۔ 
مختصر طور پر، فکری مراقبہ یا مراقبہ ایک رسمی اور وسیع اصطلاح ہے جو کہ ہوش مندی اور آگاہی کی ایک کوشش ہے۔ اس میں اپنے روزمرہ معمولات میں سے کچھ وقت نکالنا شامل ہے تا کہ اپنے باطن کی طرف توجہ دی جائے ، غوروفکر کی مشق ہو، برداشت پیدا کیا جائے ، سکون حاصل کیا جاسکے وغیرہ۔ جبکہ غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت توجہ دینے کی مشق کرنے کا نام ہے۔ اس ذہنی عمل کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کے لیئے کسی رسمی پابندیوں کی ضرورت موجود نہیں ہے


غور ,دھیان اور فکری مراقبے
کے فوائد

اس کا عمل


 the benefits of practicing mindfulness