رشتے

شادی شدہ زندگی کے مسائل سمھجنا


رشتوں میں موجود مسائل کو سمجھنا: آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سُنا ہوگا کہ شادی کے بعد سب بدل جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پیار کے نام پر رشتوں میں موجود چھوٹے موٹے اختلافات کواکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر شروعات ہی میں ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان سے نمٹ لیا جائے تو نا صرف یہ رشتوں میں برداشت پیدا کرسکتے ہیں بلکہ انہیں مضبوط ، پائیدار اور دیرپا بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ جن معاملات میں ان چھوٹے چھوٹے جھگڑوں پر دھیان نہیں دیا جاتا یا پھر انہیں صحیح طریقے سے نمٹایا نہیں جاتا وہاں نتائج رشتوں کا ٹوٹنا، علیحدگی اور طلاق کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں لاہور کی عدالتوں میں روزانہ تقریباً ۱۵۰ طلاق کے کیس رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جوڑوں کو مؤثر انداز میں مسائل حل کرنے کے لیئے تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

تحقیق کے مطابق طلاق کی بڑی وجوہات میں جسمانی اور جذباتی طور پر کی جانے والی بدسلوکی، زبردستی کی شادیاں، زنا اور بدکاری، بے وفائی، بانجھ پن، مالی مشکلات اور دیگر شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ عوامل جیسے کہ بانجھ پن ایسے ہیں جن پر جوڑوں کا اپنا کوئی اختیار نہیں لیکن باقی تمام مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر جان گوتمان (Dr. John Gottman) جو کہ ایک تجربہ کار تحقیق کار ہیں اور شادی اور رشتوں کے حوالے سے کام کرنے کا ایک وسیع تجربہ رکھتے ہیں ان کے مطابق یہ اہم نہیں ہے کہ جوڑے اپنے مسائل کس طرح حل کرتے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ وہ انہیں کس طرح سنبھالتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بات چیت کے چار منفی انداز بیان کیئے ہیں جو کہ اختلافات کی وجہ بنتے ہیں۔وہ انہیں رشتے کے لیئے ’’دی فور ہورسز اُف ایپوکیلیپس ‘‘ (The four horses of Apocalypse) کا نام دیتے ہیں جو کہ طلاق کی وجہ بنتے ہیں۔

۱) تنقید (Criticism): اپنے الفاظ کی وجہ سے اپنے ساتھی کی شخصیت اور کردار پر حملہ کرنا۔
۲) توہین کرنا (Contempt) : بے عزتی کرنے کی نیت سے اپنے ساتھی کی خودداری پر حملہ کرنا اور اسے جذباتی طور پر نقصان پہنچانا۔
۳) اپنے دفاع میں کھڑے ہونا :(Defensiveness) اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرتے ہوئے اپنے دفاع کے لیئے قدم اٹھانا اور تمام الزام دوسرے انسان پر ڈال دینا۔
۴) سرد مزاجی اختیار کرلینا (Stonewalling) : کسی قسم کے اختلافات سے بچنے کے لیئے اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فاصلہ اور علیحدگی کا راستہ چنتے ہوئے رشتہ سے دستبردار ہوجانا۔

ان چاروں وجوہات کے لیئے ایسا علاج موجود ہے جس کی مدد سے مستقبل میں پیش آنے والے نقصانات سے بچا جاسکتا ہے۔

۱) تنقید (Criticism): اپنی شکایت کو سیدھا سیدھا بیان کرنا اور کسی بھی قسم کے طعنوں سے پرہیز کرنا۔
۲) توہین کرنا (Contempt) : رشتے میں ایک دوسرے کی توہین کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی تعریف کرنے کی عادت ڈالیں۔
۳) اپنے دفاع میں کھڑے ہونا :(Defensiveness)اپنے شریکِ زندگی کی بات سنیں اور اپنی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کریں۔
۴) سرد مزاجی اختیار کرلینا (Stonewalling) : ایک دوسرے سے اپنے جذبات کا اظہار کریں اور ایک دوسرے کو تھوڑا وقت دیں۔

اختلافات کو موئثر انداز میں سنبھالنا ایک دیرپا رشتہ کی ضمانت ہے اور یہ کام کیسے کیا جائے، ڈاکٹر جان گوتمان (Dr. John  Gottman)  نے اس ’’کیسے‘‘ کا بہترین جواب پیش کیا ہے۔ 


[1] Rising Divorce Rates in Pakistan – Its Impact on the Individual and Society | JPMS Medical Blogs. (n.d.). Retrieved from http://blogs.jpmsonline.com/2017/01/26/rising-divorce-rates-in-pakistan-its-impact-on-the-individual-and-society/

[2] Earp, B. D., Sandberg, A., &Savulescu, J. (2012). Natural Selection, Childrearing, and the Ethics of Marriage (and Divorce): Building a Case for the Neuroenhancement of Human Relationships. Philosophy & Technology, 25(4), 561–587. https://doi.org/10.1007/s13347-012-0081-8

[3] The Four Horsemen: The Antidotes. (2013, April 26). Retrieved October 26, 2017, from https://www.gottman.com/blog/the-four-horsemen-the-antidotes/



 جب ہم رشتوں کی بات کرتے ہیں، زیادتی کا مرحلہ سمھجنا ضروری بن جاتا ہے    

  کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟