احسا سے تنہائی

لفظ تنہائی سامنے آتے ہی جو منظر دماغ میں آتا ہے اس میں ایک ایسا شخص موجود ہوتا ہے جو کہ معاشرتی طور پہ تنہا ہے یا رشتوں کے بندھن سے آزاد ہے، وہ غمگین ہے ،الگ تھلگ ہے اور معاشرتی طور پہ نااہل ہے۔ایک ایسا انسان جو دوسروں کے ساتھ نہ چل سکتا ہو اور اسکے دوستوں نے بھی اسے چھوڑ دیا ہو۔ مثلاً ایک ایسے لڑکے کے بارے میں سوچیئے جو کہ اسکول میں کھانے کے وقفے کے دوران اکیلا بیٹھا ہوتو اسے دیکھ کر لوگ سوچیں گے کہ شاید اسکا کوئی دوست نہیں یا لوگ اس سے دوستی نہیں کرنا چاہتے۔
تنہائی یقیناًایک ایسا احساس ہے جس کی وجہ سے انسان کو رابطوں میں کمی اور تنہا ہونے کا احساس رہتا ہے اور کسی دوسرے انسان کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہونے کا درد بھی موجود رہتا ہے۔

البتہ تنہائی کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا۔کئی بار تنہائی صرف خالی پن کا ایک احساس ہوتا ہے جو خاندان اور دوست احباب کی موجودگی میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسی دعوت کے بارے میں سوچیئے جس کے لیئے آپ تیار ہوکر اور ایک مقرر ہ فاصلہ طے کر کے پہنچے ہوں تاکہ آپ اپنے دوستوں سے مل سکیں۔وہاں پہنچنے کے بعداپنے دوستوں کے ساتھ آپ بے سکونی محسوس کرنے لگیں اورخود سے سوال کریں ’’آخر میں یہاں کیوں ہوں؟‘‘ اس معاملے میں ایک انسان جسمانی طور پر لوگوں کے درمیان موجود ہوتا ہے مگر ذہنی طور پر خالی پن محسوس کرتا ہے۔یہاں تک کہ سینکڑوں دوستوں کی موجودگی کے باوجود لوگوں اور تمام بیرونی چیزوں سے منقطع رہنا ،یہ وہ مقام ہے جہاں ایک انسان محسوس کرنے لگتا ہے کہ اسکی زندگی میں ایسا کوئی موجود نہیں جس کے ساتھ اسکا سچا رابطہ ہو۔

تنہائی کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے جسے عام طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔یہ کسی انسان کی خودداری اور خود اعتمادی کے لیئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ مندرجہ بالا تعریفات کے مطابق، تنہائی ایک دماغی بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان محبت اور اپنائیت کی کمی محسوس کرتا ہے۔غیر محبوب ہونے کی کیفیت کے پیشِ نظر انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے کہ ’’شاید میں اس قابل ہی نہیں ہوں اسی لیئے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے‘‘ یا پھر یہ کہ ’’کوئی میری پرواہ نہیں کرتا‘‘۔ جب کوئی انسان تنہائی کا شکار ہوتا ہے تو اپنی ذات اوراپنی زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کی انکی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ جو تنہائی کا شکار ہوتے ہیں وہ مختلف منفی خیالات جیسے کہ غصہ، جھنجھلاہٹ اور اُداسی میں گھِرے رہتے ہیں۔

ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی تنہائی محسوس کرتا ہے جو کہ اس پر مختلف طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔کسی بھی قسم کی سرگرمی سے لطف اندوز ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔تنہائی کا ایک اور نتیجہ لوگوں کو نظرانداز کرنا ہے۔یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ تنہائی لوگوں سے دوری کی وجہ سے جنم لیتی ہے اور اسکے اثرات لوگوں سے مزید دوری کا سبب بنتے ہیں۔تنہائی ایک طاقتور احساس ہے جو کہ انسان کی تباہ شدہ زندگی کو مزید تباہ کرتے ہوئے اسے مزید تنہا اور الگ تھلگ بنا سکتا ہے۔

تنہائی کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جو کہ انسانی بہتری پر اثرانداز ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اسے سمجھنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیئے؟ تبدیلی ممکن ہے اگراس مسئلے کو تسلیم کرلیا جائے۔اس لیئے پہلا قدم اس احساس کوتسلیم کرنا ہے۔کچھ لوگ اس حقیقت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں کہ وہ تنہا محسوس کرتے ہیں یا الگ تھلگ رہتے ہیں۔کسی شخص کے لیئے یہ قبول کرنا کہ اسکے دوست احباب نہیں، شرم اور بے عزتی کا باعث بن سکتا ہے لیکن مسئلے کے حل کے لیئے یہ بہت ضروری صحیح انسان کا انتخاب کرنا ہے جس کے لیئے بذاتِ خود کچھ سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ضروری ہے۔کس انسان کو بتایا جائے کہ آپ اندرونی خالی پن محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپکے ذہن میں کوئی نام ہے؟کیا وہ آپکا بہترین دوست ہے، بہن بھائی ہے، یا پھر کوئی ساتھ کام کرنے والا /والی؟ اس طرح کے انسان کو ڈھونڈنا اور اپنا مسئلہ بیان کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کچھ ایسے آسان طریقے موجود ہیں جنکی مدد سے تنہائی کے احساس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔کیونکہ تنہا انسان خود اپنی ذہنی اور جذباتی حالت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے اسلیئے پہلا قدم ہمیشہ اقرار کرنا ہے۔یہ بات تسلیم کرنا کہ ہم کبھی کبھار افسردہ ہوتے ہیں کیونکہ ہم دوسرے لوگوں سے جڑ نہیں پاتے۔اس حقیقت کا اقرار ہی حل تلاش کرنے کی جانب راستہ بنائے گا۔فوری حل کے طور پر تنہا انسان کسی ایسے شخص کو فون کال کرسکتا ہے جو اس کیلئے بہت عزیز ہو، موبائل فون پر پیغام بھیج سکتا ہے یا پھر ای- میل (E-mail) بھیج سکتا ہے۔کسی ایسی سرگرمی میں مصروف ہوجانا جو آپ کو اطمینان دیتی ہو ایک اور طریقہ ہے جو ایسی صورتِحال میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ذاتی دیکھ بھال کے چند مزید طریقے جیسا کہ غوروفکر اور مراقبہ (Mindfulness) کرنا بھی اس جذباتی بوجھ کو ختم کرنے میں مدددے سکتے ہیں۔کچھ لوگوں کے لیئے پودا یا پالتو جانور رکھ لینا بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ان سب باتوں کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ وہ کونسی چیزیں ہیں جو کسی انسان کے مشکل وقت میں اسے خوش رکھ سکتی ہیں۔کیا ایک فون کال آپکو بہتر محسوس کرواسکتی ہے؟ کیا اپنے دوست کے ساتھ اپنے کسی پسندیدہ ریستورنت (Restaurant) میں کھانا کھانے سے آپ خود کو کم اکیلا محسوس کرتے ہیں؟ ان سب چیزوں پر غور کیجئے جن کی وجہ سے آپ بہتر محسوس کرتے ہیں۔اگر آپ اپنی تنہائی کو کم نہیں کر پارہے اور آپکی ساری کوششیں بیکار ہورہی ہیں تو کسی ماہرِ نفسیات سے مدد اور رہنمائی حاصل کرنا ایک اچھا قدم ہے۔

ہر انسان اپنی زندگی میں خوش اور مطمئن رہنے کی کوشش کرتا ہے۔اگرچہ تنہائی اپنے اندر منفی اثرات رکھتی ہے اور ایک تنہا انسان لوگوں سے روابط قائم کرنے اور معاشرے میں فعال ہونے کی ضرورت شدّت سے محسوس کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر تنہائی کا شکار انسان خود اپنے آپ سے مطمئن ہوجائے تو تنہائی پر بہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے کیا آپکو کسی کو کال یا میسج کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ اکیلے ہیں اور بوریت محسوس کر رہے ہیں؟ہم اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا کیوں نہیں سیکھ لیتے؟ خوشی انسان کے اندر سے آنے والا ایک احساس ہے اور جس طرح اوپر بیان کیا گیا ہے کہ بہت سے لوگ بہت سارے دوستوں سے گھِرے رہتے ہیں لیکن پھر بھی تنہا محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ تنہائی ہمیشہ بیرونی دنیا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل میں شامل نہیں ہوتی اور ایک ایسی بیماری ہے جسکا علاج تنہا انسان خود کرسکتا ہے۔ایک بار اگر انسان اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا اور اس وقت میں سکون ڈھونڈنا سیکھ جائے تو لفظ ’’تنہائی‘‘ بدل کر ’’ذاتی وقت‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ذاتی وقت سے مُراد وہ وقت ہے جو ایک انسان دنیا سے الگ اپنے ساتھ گزارتا ہے جہاں وہ اپنی سوچ ، خیالات اور اپنی تمام پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے لیئے بالکل آزاد ہوتا ہے۔


 کیا آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں؟    

  ذہنی دباؤ