زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ

زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ کے بارے میں آگاہی

بچے کی پیدائش کے بعد تمام خواتین ذہنی اور جسمانی طور پر کمزوری اور نقاہت (بے بی بلیوز) محسوس کرتی ہیں لیکن اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو یہ ایک سنگین بے قاعدگی میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ یا پوسٹ پارٹم ڈپریشن (پی پی ڈی) کہتے ہیں۔ بچے کی پیدائش ایک عورت کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور خوشگوار لمحہ ہوتا ہے جو کہ بلاشبہ ایک معجزہ کے طور زندگی کا حصہ بنتا ہے لیکن کچھ نئی مائیں اس دور میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں جس کی وجہ سے انہیں بچے کو اپنی زندگی میں ایک تحفہ کے طور پرقبول کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ماضی کے نظریات کے برخلاف، اس میں کسی ماں کا قصور ہے نہ ہی یہ کیفیت جان بوجھ کر طاری کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ ایک ذہنی کیفیت اور ذہنی پیچیدگی کی ایک حالت ہے جس کا مناسب طریقے سے علاج ہونا انتہائی اہم ہے۔


پی پی ڈی کیا ہے؟

پی پی ڈی ایک ایسی ذہنی کیفیت اور پریشانی کا نام ہے جو کہ خواتین کے ذہن پر گہرائی کے ساتھ اثر انداز ہوتی ہے۔ اسے عام زبان میں زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤکہا جاتا ہے یعنی کہ بچے کی پیدائش کے بعد ذہن پر چھا جانے والی پریشانی اور جھنجھلاہٹ۔ اگر کسی خاتون کو مزاج میں مسلسل اتار چڑھاؤکا سامنا ہو اور یہ کیفیت دو ہفتے سے زیادہ برقرار رہے تو ایسی خاتون زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ کبھی کبھی یہ کیفیت ایک سال یا اس سے زائد بھی طاری رہتی ہے۔


اس کی علامات کیا ہیں؟

پی پی ڈی ایسی بہت سی کیفیات کا مجموعہ ہے جو کہ بچے کی پیدائش کے چھ مہینے کے اندر اندر رونما ہوتی ہیں۔ مسلسل دو ہفتے تک مزاج میں سستی کے نتیجے میں پی پی ڈی کی تشخیص کی جاسکتی ہے جب کہ مریض میں مختلف دیگر علامات جیسا کہ بھوک کی کمی، شرمندگی اور پشیمانی کے جذبات، توانائی کی کمی، نیند کے معمول میں بے قاعدگی، یادداشت کمزور ہونا، چیزوں پر دھیان دینے میں مشکل پیش آنا، جنسی خواہشات میں کمی، جھنجھلاہٹ، بچے اور خاندان سے بیگانگی اور لاتعلقی اختیار کرلینا، خودکشی کرنے کے بارے میں سوچنا یا بچے کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچنا شامل ہے۔
پی پی ڈی اور بے بی بلیوز کو ایک جیسی کیفیت تصور کیا جاتا ہے حالانکہ بے بی بلیوز میں مختلف دورانیوں میں رونا، غصہ کرنا، تنگ ہوجانا، تھکن محسوس کرنا اور جھنجھلاہٹ کی کیفیت شامل ہے جو کہ دو ہفتے یا ان سے کم برقرار رہتی ہے جبکہ پی پی ڈی کی علامات انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں اور ان کا دورانیہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔


یہ کس پر اثر انداز ہوتا ہے؟

یہ ذہنی کیفیت ماں ، بچے اور خاندان کے دیگر افراد پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ماں مندرجہ بالا علامات کا شکار ہوتی ہے۔ ایک پیار کرنے والی ذمہ دار ماں کا کردار نہ نبھا پانے کا احساس خواتین میں الکوحل لینے، نشہ کرنے اور سگریٹ پینے کی عادت کو جنم دیتا ہے۔ اس ذہنی کیفیت کی شکار ماؤں کا اپنے شیر خوار بچوں کی طرف رویہ بھی تبدیل ہوجاتا ہے جس کا منفی اثر بچوں کی نشوونما اور پرورش پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے انہیں آئندہ زندگی میں رشتے نبھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ پی پی ڈی کا شکار ہیں تو آپ کو فوری طور پر ذہنی معالج سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کیفیت نا صرف آپ پر اثر انداز ہورہی ہے بلکہ یہ آپ کے بچے کے لیئے بھی مشکلات کا سبب ہے۔


حوالہ جات:

۱) تھاپمسن کے ایس اور فوکس جے ای (۲۰۱۰) ۔ زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ ، دریافت اور علاج کا مؤثر طریقہ ۔ گھریلو زندگی اور ذہنی صحت (۴) ۷ ، ۲۵۷ ۔ ۲۴۹
۲) فٹلسن ای، کم ایس، بیکر اے ایس، اور لائٹ کے (۲۰۱۱) ۔ زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ کا علاج۔ طبی، ذہنی اور ادویات کا انتخاب۔ انٹرنیشنل جرنل آف وومن ہیلتھ ، ۳ ،۱۴ ۔ ۱ http://doi.org/10.2147/IJWH.S6938
۳) اوھارہ ایم ڈبلیو (۲۰۰۹ ) زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ۔ ہم کیا جانتے ہیں۔ جرنل آگ کلینکل سائیکو لوجی، ۶۵(۱۲) ۱۲۵۸ ۔ ۱۲۶۹
۴) فیلڈ ٹی (۲۰۱۷) زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ کے اثرات، خطرات اور مداخلت۔ ایک جائزہ ۔ کلن ڈپریس
۵) تھر گوڈ ایس، اویری ڈی ایم، ولیمسن ایل (۲۰۰۹) ۔ زچگی کے بعد ہونے والا ذہنی دباؤ (پی پی ڈی) امریکن جرنل آف کلینکل میڈیسن۔   

http://www.aapsus.org/wp-content/uploads/Postpartum-Depression.pdf 

سے  ماخوذ