غور ,دھیان اور فکری مراقبے

غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کس طرح شروع کی جائے اور اسے کس طرح جاری رکھا جائے:

اپنی ذات سے محبت کرنا اور اپنے آپ کو خوش رکھنا خود غرضی میں شامل نہیں بلکہ یہ ایک ضرورت ہے۔ غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت اپنی پرواہ کرنے کی ایک عادت ہے جو کہ ہمارے روزمرہ کے فینسی مینی کیور (Manicure) اور پیڈی کیور (Pedicure) سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ یہ نا صرف آپکی مجموعی صحت کا خیال رکھنے کا ذمہ دار ہے بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے اور ایک اطمینان بخش زندگی گزارنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

فکری مراقبے میں مختلف ذہنی کسرتیں شامل ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکی شروعات کی جائے اور اسے اپنے روزانہ کے معمول کا حصہ بنایا جائے۔ کچھ وقت بعدیہ معمول عادت بن جاتا ہے۔ سب سے پہلا قدم اپنا ایک معمول ترتیب دینا یا پھر پہلے سے موجود معمولات پر عمل کرنا ہے اور اسکی مدد سے اپنی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ مندرجہ ذیل حصہ ان مختلف طریقوں پر مشتمل ہے جنکی مدد سے غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت اور فکری مراقبے کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ 

غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کے بنیادی طریقے:

غور کرنا اور دھیان دینا لوگوں کے لیئے مددگار ثابت ہوتا ہے تا کہ وہ اپنی ذات اور مختلف واقعات پر اپنے ردعمل کے درمیان فرق کرسکیں۔ اسے کس طرح اپنی زندگی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے یہاں بیان کیا گیا ہے۔ 

۱) کچھ وقت کے لیئے ایک طرف بیٹھ جائیں: آپکو فینسی آلات اور ممبرشپ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اپنی ذات کے لیئے کچھ وقت اور جگہ مختص کرنے کی ضرورت ہے۔ 
۲) صحیح معنی میں حال کا جائزہ لینا: اپنے موجودہ لمحات پر دھیان دیں۔ بجائے اسکے کہ آپ اسے بدلنے یا اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کریں، صرف اسکا جائزہ لیں۔ 
۳) وقت سے پہلے رائے قائم نہ کریں: کسی چیز کے بارے میں رائے قائم کرنا اور فیصلہ کرلینا ایک فطری عمل ہے۔ اگر ایسا ہو تو اسے اپنے پاس نوٹ کرلیں۔ اور اگلی چیزوں کی جانب بڑھیں۔ 
۴) موجودہ حالات کی طرف واپس آئیں: ہمارا دماغ ہمیں زیادہ باتیں سوچنے پر الجھانے کی کوشش کرتا ہے وہیں یہ طریقہ کام آتا ہے۔ ہمارے لیئے اپنے موجودہ حالات میں واپس لوٹنا نہایت ضروری ہے۔ 
۵) اپنے آزاد دماغ کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں: اپنے خیالات کی بنیاد پر اپنے بارے میں کوئی رائے قائم نہ کریں صرف اپنے ذہن پر توجہ دینے کی کوشش کریں۔ 
ایک بار اگر آپ اوپر دیئے گئے بنیادی عناصر کو سمجھ لیں تو یہاں ایک آسان مثال پیش کی گئی ہے کہ کس طرح آپ اپنی زندگی میں غور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کو شامل کرسکتے ہیں۔ 

یہاں ایک دن کے معمولات بیان کیئے گئے ہیں جو کہ ان لوگوں کے لیئے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جو ابھی شروعات کر رہے ہیں۔ 

صبح ۷ بجے
اُٹھتے ہوئے سانس لینے کی مشقیں
۳ تک گنتی گنتے ہوئے سانس اند ر لیں، ۳ تک گنتی گنتے ہوئے سانس روکیں اور ۳ تک ہی گنتی گنتے ہوئے سانس باہر نکالیں۔ 

صبح ۸ بجے
ناشتے کے دوران مشروبات پیتے ہوئے ان پر غور کریں
جو بھی مشروب(کافی، چائے،دودھ) آپ پئیں، اسکی ہر گھونٹ پر اسکا ذائقہ ، ہیئت، درجۂ حرارت اور رنگ نوٹ کریں۔

صبح ۰۱ بجے
ہلکی پھلکی ورزش کریں
اپنے کاندھوں کو مخصوص انداز میں گھمائیں اور محسوس کریں کس طرح آپکی تمام تناؤ کی کیفیت غائب ہوتی ہے۔ 

دوپہر کے ۲۱ بجے
قدرت کے ساتھ رابطہ قائم کریں
ایک پودا یا پھول اپنے قریب رکھیں اور اسکی خوبصور تی کو سراہیں۔

دوپہر ۲ بجے
توجہ کے ساتھ کھانا کھائیں
جو کچھ بھی آپ کھائیں اسکے ذائقے، رنگ، شکل، بناوٹ اور درجۂ حرارت کے بارے میں دریافت کریں۔

سہ پہر ۴ بجے
ایک احساس کو تسلیم کریں
کسی بھی جذبے کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں رائے قائم کیئے بغیر اسے تسلیم کریں۔

شام ۷ بجے
برتن دھوئیں
جب آپکا ہاتھ پانی اور صابن سے ملے تو اسکی حرکات اوراحساسات پر غور کریں۔

رات ۸ بجے
گرم جوشی سے گلے لگانا
کسی کو گلے لگائیں اور اس تجربہ کو محسوس کریں۔

رات ۹ بجے
جرنل تیار کرنا
کوئی بھی پانچ ایسی چیزیں لکھیں جن کے لیئے آپ آج کے دن شکر گزار ہوں۔

رات ۰۱ بجے
اپنے جسم کا جائزہ لینا
اپنے جسم کے ذریعے اپنے مختلف ردعمل کا جائزہ لیں اور تناؤ والے حصوں کو آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔

مراقبہ

’’حرکات و سکنات سے آگاہی اور معلومات حاصل کرنا ہماری سب سے بڑی آسائش ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب اکثر معلومات سے آزادی، سکون کے ساتھ بیٹھنے کا موقع مل جانا ہی انمول انعام کے جیسا محسوس ہوتا ہے۔‘‘ 
( پیکو ائیر (Pico Iyer) - سفر مصنف ’’دا آرٹ اُف سٹلنیس The Art of Stillness ‘‘ )

ہم مراقبے اورغور کرنے اور دھیان دینے کی صلاحیت کے درمیان رابطے پر بات کر چکے ہیں، تو آخر مراقبہ کیا کرتا ہے؟ یہ ہمیں خود پراور موجودہ لمحات میں ہماری سانسوں پر توجہ دینے میں مدد کرتا ہے اور ہر سانس کے ساتھ ہمارے آزاد دماغ کے منتشر خیالات کو واپس لانے میں مدد کرتا ہے۔ بنیادی مراقبہ مندرجہ دیل اقدامات پر مشتمل ہے۔ (اس سر گر می کے لیئے آپ زیادہ سے زیادہ ممکن وقت صَرف کریں) 

۱) آرام سے بیٹھ جائیں۔
۲) اپنی آنکھیں بند کرلیں۔
۳) کندھوں کو ڈھیلا چھوڑدیں۔
۴) اپنی ٹانگوں کی حرکات پر غور کریں۔
۵) اپنا اُوپری جسم سیدھا کرلیں۔
۶) اپنے بازوؤں کی حرکات پر غور کریں۔
۷) اپنی نظریں نیچی کرلیں۔ 
۸) اپنی سانس کو محسوس کریں۔
۹) غور کریں کہ کب آپکا دماغ آپکی سانسوں سے اپنی توجہ ہٹاتا ہے۔
۰۱) دوبارہ متوجہ ہوجائیں۔
۱۱) اپنے بازوؤں ، پھر اپنے ہاتھوں اور پھر اپنے سانس لینے کی رفتار پرتوجہ دیں۔
۲۱) جب آپ تیار ہوں، دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول دیں۔

غور کرنے اور دھیان دینے کی ذہنی ورزش:

ابتدا میں کی جانے والی دو ورزشیں مندرجہ ذیل ہیں:

۱) کشمش والی کسرت:
ابتدائی طور پر غوروفکر کرنے کی شروعات کرنے والوں کے لیئے یہ کسرت بہت فائدہ مند ہے۔ اس کسرت میں لازمی طور پر صرف کشمش ہی کا استعمال ضروری نہیں ہیں (مفت آن لائن (online) ذرائع سے حاصل کیا گیا) 

پہلا مرحلہ: کچھ کشمش لیجیئے اور ایسا ظاہر کیجیئے جیسا کہ آ پنے پہلے کبھی کشمش نہیں دیکھی ہو۔
دوسرا مرحلہ: اب مکمل دھیان دیجیئے کہ کشمش کیسی دکھائی دیتی ہے۔ اسکے رنگ، شکل اور سائز پر غور کیجیئے۔
تیسرا مرحلہ: اب اسے اپنے ہاتھ میں لیں اور محسوس کریں۔ اسکی ساخت اور اسکی ناہموار سطح کا جائزہ لیں۔
چوتھا مرحلہ: اب اسے اپنے ہاتھ پر تھوڑا ملیں اور محسوس کریں کہ یہ نرم ہے یا سخت۔
پانچواں مرحلہ: اب اسے اپنی ناک کے قریب کریں اور اسے سونگھیں۔
چھٹا مرحلہ: آخر میں اسے اپنے منہ میں رکھیں اور آہستگی سے چبائیں۔ جو رس اس میں سے نکل رہا ہو اس پر غور کریں اور ذائقہ محسوس کریں۔
اپنے ہاتھ میں موجود کشمش پر توجہ دینے اور اسکے بارے میں ہر چیز کا جائزہ لینے کے دوران اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ آپ نے اپنی توانائی، توجہ اور وقت اپنی زندگی کے دوسرے حصوں کے بارے میں فکر منداور پریشان ہوتے ہوئے گزارا ہو۔ بلکہ آپنے پوری کوشش کی کہ آپ اپنے موجودہ لمحے میں موجود رہیں اور اپنے آپ کو دیگر تمام چیزوں سے آزاد رکھیں۔ 

۲) جسمانی معائنہ (The Body Scan):
غورکرنے اور دھیان دینے والوں کے لیئے ایک اور طریقہ جسمانی معائنہ (Body Scan) کا بھی ہے۔ اس کے لیئے بہت ہی کم آلات کی ضرورت ہوتی ہے اور ابتدائی مراحل میں موجود لوگ بھی آسانی کے ساتھ اسے اپنا سکتے ہیں۔
پہلا مرحلہ: اپنے آپ کو تیار کریں: کمر کے بل لیٹ جائیں اس طرح کے آپ کی ہتھیلیاں چھت کی طرف ہوں اور پیر ایک دوسرے سے تھوڑا الگ ہوں۔ آپ یہ کسرت ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر بھی کرسکتے ہیں جبکہ آپ کے پیر فرش پر آرام دہ حالت میں موجود ہوں۔
دوسرا مرحلہ: اپنے آپ کو نیچے کرلیں: مشق کے دوران آرام سے لیٹے رہیں اورصرف اس وقت حرکت کریں اگر آپ کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ 
تیسرا مرحلہ: اپنے سانس لینے کے طریقوں پر دھیان دیں: اپنے سانس لینے کے طریقے پر غور کرنے سے شروعات کریں۔ سانسوں میں توازن، سانس اندر لینے اور باہر نکالنے جیسے تجربات پر غور کریں۔ اپنے سانس لینے کے طریقے کو تبدیل نہ کریں بلکہ صرف اس پر توجہ دیں۔ 
چوتھا مرحلہ: اپنے پورے جسم پر توجہ دیں: اب، اپنے جسم کی طرف متوجہ ہوں، اسے محسوس کریں، اپنے لباس کا جائزہ لیں۔ جس سطح پر جسم سکون کی حالت میں ہو اسکی شکل کا مشاہدہ کریں۔ اپنے جسم اور ماحول کے درجۂ حرارت کا معائنہ کریں۔ 
پانچواں مرحلہ: تمام جسمانی اعضاء پر دھیان دیں: ان اعضاء پر دھیان دیں جو کہ سنسناہٹ، درد ، سوجن یا پھر ہلکا یا بھاری محسوس کر رہے ہوں۔ ان اعضاء پر غور کیجئے جہاں پر سنسنی موجود نہ ہو یا بہت زیادہ سنسناہٹ موجود ہو۔ 

ایک بنیادی جسمانی معائنہ (Body Scan) جسم کے تمام حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جن میں ہر حصہ پر خاص توجہ دی جاتی ہے کہ وہ کس طرح محسوس کر رہا ہے۔ یہ اسکین عام طور پر اس ترتیب میں کیا جاتا ہے۔ 
۱) دونوں پاؤں کے انگوٹھے
۲) باقی ماندہ پاؤں (اوپر نیچے کا حصہ اور ٹخنہ)
۳) نچلی ٹانگیں
۴) گھٹنے
۵) رانیں
۶) پیلوک ریجن (buttocks, tailbone, pelvic bone, genitals)
۷) پیٹ
۸) سینہ 
۹) نچلی کمر
۰۱) اُوپری کمر (پچھلی پسلیاں اور کندھوں کی ہڈیاں)
۱۱) ہاتھ (اُنگلیاں، ہتھیلیاں، پچھلا حصہ اور کلائیاں)
۲۱) بازو (نچلا حصہ، کہنیاں اور اُپری حصہ)
۳۱) گردن
۴۱) چہرہ اور سر (جبڑہ، منہ، ناک، گال، کان، آنکھیں، ماتھا اور سر کی جلد)

جسمانی معائنہ مکمل ہونے کے بعد جب آپ تیار ہوں تو آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولیں اور قدرتی طور پر آرام دہ حالت میں بیٹھ جائیں۔

پریشانی دور کرنے کے لیئے غورکرنا اور دھیان دینا:

پریشانی سب سے زیادہ سامنے آنے والے مسائل میں سے ایک ہے۔ غورکرنے اور دھیان دینے میں پریشانی کو سنبھالنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے اور پریشانی ختم کرنے کے لیئے غور اور دھیان دینے کی ایک بنیادی کسرت یہاں بیان کی جارہی ہے۔ 
۱) پریشانی کی موجودگی کو تسلیم کرنا: فکر مند کردینے والے خیالات، احساسات اور تصاویر کو نرمی سے اندرونی طور پر تسلیم کریں۔ 
۲) اپنی سانسوں کو محسوس کریں اور آرام کریں: جس حصہ پر بھی آپ اپنی سانسیں محسوس کر رہے ہوں وہا ں غور کریں (مثلاً ناک کے نتھنے، پیٹ یا پھر پیر کے انگوٹھے ان کے لیئے جو اپنے پیروں پر زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں) ۔ 
۳) پریشانی کے خیال کو اپنے سانس کے ساتھ پیٹ کے اندر لیتے ہوئے اپنے جسم اور دماغ میں محسوس کریں۔ تصور کریں کہ سانس اندر داخل ہورہی ہے۔ آپکی سانس پریشانی کو ہٹانے کے بجائے اس سے پار ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ پیٹ کے ذریعے آرام دہ اور گہری سانس لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر پریشانی کے عالم میں تیز اور سینے کی حد تک لی جانے والی سانسیں جسمانی سنسناہٹ اور فکر کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
۴) پریشانی کا سامنا کریں: پریشانی کو اسی طرح تسلیم کیجئے جس طرح سانس خارج کرتے ہوئے کیا تھا۔ اپنی پریشانی کو آہ و بکا اور غصے کی مدد سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ پھر سے آہستہ اور سکون کے ساتھ سانس لیں۔
۵) اپنے آپ پر توجہ برقرار رکھیں اور سانسوں کا معائنہ کرتے رہیں۔
۶) نوٹ کریں کہ آپ کی اس کسرت کے بعد بھی کیا چیز باقی رہ گئی ہے۔آپکی پریشانی کے پیچھے آخر کیا وجہ تھی؟ اپنی دیکھ بھال کے لیئے وہ تمام اقدامات کریں جن کی ضرورت ہے۔