کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟

زیادتی کیا ہے؟


زیادتی یا بدسلوکی کے اصطلاحی معنی جبر یا زبردستی کے ہیں۔ ہمیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اس طرح کا جبر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارے لیئے اس طرح کی بات سننا ایک معمول کی بات ہے کہ کسی نے اپنے فائدے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیا جبکہ وہ غلطی پر تھے، یہ طاقت کی مدد سے ہونے والی زیادتی کی ایک مثال ہے۔ ہم اکثر یہ بھی سنتے ہیں کہ کسی نے ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا تفریحی مقاصد کے لیئے استعمال شروع کردیا جو کہ منشیات کے غلط استعمال کی ایک قسم ہے۔ البتہ مندرجہ ذیل حصے میں ان تمام زیادتیوں اور بدسلوکیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو کہ انسانی رشتوں میں رونما ہوتی ہیں۔

جب رشتوں میں جبر یا زیادتی کا پہلو شامل ہوجاتا ہے تو ایک انسان حاوی اور ظالم بن جاتا ہے جبکہ دوسرا مظلوم ہوتا ہے۔ ظالم وہ شخص ہے جو کہ زخم دیتا ہے جبکہ مظلوم اس نقصان کا شکار ہوتا ہے۔ یہ نقصان خواہ جسمانی، کلامی یا جنسی ہو ، جذباتی طور پر نقصان کا سبب ضرور بنتا ہے۔ زیادتی ایک ایسا جذباتی زخم ہے جو کہ ایک شخص کے ساتھ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور اسکی شخصیت کو متاثر کرتا ہے۔ زیادتی اور بدسلوکی کی بہت سی اقسام ہیں لیکن کچھ عام اقسام یہاں پیش کی جارہی ہیں:

جذباتی بدسلوکی

جسمانی بدسلوکی

زبانی بدسلوکی 

جنسی بدسلوکی

جذباتی بدسلکی

یہ چند ایسے رویؤں پر مشتمل ہے جنکا مقصد مظلوم انسان کی بے عزتی کرنا ہے۔ اگرچہ جذباتی بدسلوکی کے حوالے سے چند مخصوص روئیوں کو تحریر کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ ان رویؤں کی نوعیت مختلف رشتوں کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، کچھ ایسی خصوصیات موجود ہیں جو کہ جذباتی بدسلوکی کے روئیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ذیل میں کچھ ایسے رویئے بیان کیے گئے ہیں جو کہ جذباتی بدسلوکی کی کیفیت میں محسوس کیے گئے ہیں:

۱) نفرت انگیز گفتگو اور کڑوے جملے: اکثر اوقات لوگ تکلیف پہنچانے کی غرض سے کئی باتیں کہہ جاتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب دیجیئے اور دیکھیئے کہ کیا آپ نے کبھی جذباتی بدسلو کی کے کسی رویئے کا سامنا کیا ہے۔ کیا آپ کے زندگی کے ساتھی نے کبھی آپکو بُرے ناموں سے پکارا ہے؟ کیا آپکے کسی دوست نے کبھی کوئی کڑوا جملہ کہا ہے جو کہ انتہائی نا مناسب ہو؟ کیا آپکے کسی استاد نے آپکے جواب کو بے وقوفانہ یا احمقانہ قرار دے کر جھٹلایا ہے؟ یہ صرف چند ایک سوالات ہیں اور حیران کن طور پر اس بات کو جاننے کے لیئے یہ کافی ہیں، جذباتی بدسلوکی کے بارے میں جاننے کے لیئے طویل فہرست کی ضرورت نہیں کہ کونسے رویئے اس زمرے میں آتے ہیں۔ حالانکہ یہ بہت معمولی سوالات ہیں لیکن جب آپ بیٹھ کر اس وقت کے بارے میں سوچتے ہوئے کہ جب یہ واقعات رونما ہوئے تھے، ان کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے تو آپ بے چینی، خود اعتمادی کی کمی اور مزاج میں ناخوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

۲) خوف کی کیفیت: اس وقت کے بارے میں سوچیئے جب کہ کسی اختلاف کے دوران آپ کے شریکِ حیات نے چلاّنے کے انداز میں اپنی آواز بلند کی تھی۔ ایسا کرنے کے پیچھے انکا کیا مقصد تھا؟ کیا وہ جھگڑے کو ختم کرنا اور اپنی بات کو آگے رکھنا چاہتے تھے؟ ایسا کرنے کے پیچھے انکا کوئی بھی ارادہ ہو، انکا اصل مقصد آپ کو دھمکانا تھا تاکہ آپ اپنی بات سے پیچھے ہٹ جائیں۔ اسی طرح کیا آپ کے والدین کبھی آپ پر چلّائے ہوں یا اگر آپ انکی بات نہ سنیں توآپ کے دوستوں کے سامنے انہوں نے آپکی بے عزتی کی ہو ۔ ان تمام واقعات میں جذباتی بدسلوکی موجود ہے جس میں دوسروں کی بے عزتی کرتے ہوئے اپنا غلبہ یا تسلط برقرار رکھا جاتا ہے۔

۳) قابو رکھنا: جب آپ کے والدین، دوست، یا شریکِ حیات آپکی زندگی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے کے پیچھے عام طور پر انکا پیار، آپ کے لیئے انکی پرواہ اور آپ کے ساتھ چلنے کی خواہش شامل ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھار اس طرح کے رویئے کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا سبب بننے لگتے ہیں اور حکومت کرنے یا حاوی رہنے کی خواہش انہیں زہریلا اور گھٹن زدہ بنادیتی ہے۔ کسی ایسے وقت کے بارے میں سوچیئے کہ جب آپ کے شریکِ حیات نے آپ کے لیئے ایک فہرست تیار کی ہو جس میں یہ ہدایات موجود ہوں کہ آپ کو کن لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا ہے اور کن کے ساتھ قطع تعلق کرلینا ہے، آپ نے اس وقت کیسا محسوس کیا تھا؟ یا کوئی ایسا وقت جب کہ آپ کے والدین یا شریکِ حیات نے آپکو کوئی ملازمت حاصل کرنے یا جاری رکھنے سے روکا ہو؟ یہ ایک قابو رکھنے اور مداخلت کرنے کا رویہ ہے جس کی وجہ سے ایک شخص یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اسکی آزادی اور خودمختاری کو اغواء کرلیا گیا ہو۔ غلبہ اور تسلط قائم رکھنے کی یہ کیفیت دوسرے رشتوں میں بھی محسوس کی گئی ہے جہاں حاوی انسان دوسرے شخص کی زندگی کے ہر پہلو پر اختیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۴) جذباتی طور پر ناجائز دباؤ ڈالنا: یہ جذباتی بدسلوکی میں پائے جانے والا سب سے عام رویہ ہے۔ کیا آپ کے شریکِ حیات نے کبھی خود کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے؟ کیا آپ کے والدین نے کبھی گھر چھوڑ کر جانے یا آپ سے لاتعلقی اختیار کرلینے کا کہہ کر آپ کو ڈرایا ہے؟ کیا کبھی بھی کسی نے آپ کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے آپ پر حاوی ہونے کی کوشش کی ہے؟ جذباتی طور پر ناجائز دباؤ ڈالنا ہیرا پھیری کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کہ کسی بھی صورتِ حال یا کسی انسان پر حاوی ہونے کے مقصد سے استعمال کیا جاتا ہے۔

اوپر دیئے گئے اسباب جذباتی بدسلوکی میں شامل صرف چند ایک عوامل ہیں۔ البتہ اس بات کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ اولاد اور والدین کے مابین رشتے میں موجود جذباتی زیادتی کے حوالے سے الگ سے بات کی جائے۔ جذباتی زیادتی یا بدسلوکی کو والدین کی غفلت اور لا پرواہی کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ جب والدین اپنی اولاد کے لیئے ایسا رویہ اختیار کرلیتے ہیں جو کہ یا تو بے حد لا پرواہ یا پھر حد سے زیادہ سخت ہو تو یہ کیفیت بھی جذباتی زیادتی یا بدسلوکی کے زمرے میں آتی ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لیئے، ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچیئے جس کے والدین اپنے کردار کے حوالے سے سخت لاپرواہ ہیں۔ کیا بچے نے کھانا کھایا؟ کیا وہ اسکول میں اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے؟ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ والدین کے ساتھ رابطے یا لگاؤ کی کمی، انکی طرف سے تعریف کی کمی، اور یہ احساس کہ ’’میرے گھر جانے پر میرے پاس ایسا کچھ نہیں کہ جس کے بارے میں سوچا جائے‘‘ ، یہ سب جذباتی لاپرواہی کی ایک شکل ہے۔ دوسری طرف ایک ایسے بچے کے بارے میں سوچیئے کہ جس کے والدین اسکی زندگی کے ہر پہلو پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتے ہیں، کھانا کھانے کی عادات سے لے کر دوستیوں اور پیشے کے انتخاب تک ہر ایک چیزپر قابو رکھنا چاہتے ہوں۔ اس طرح کا سخت تسلط بھی جذباتی لاپرواہی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ایسے حالات میں بچوں کو اپنی شخصیت کا اظہار کرنے یا اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اوپر درج دونوں ہی اقسام والدین اور اولاد کے درمیان رشتے میں جذباتی زیادتی یا بدسلوکی کی شکلیں ہیں۔

جذباتی زیادتی یا بدسلوکی ایک جذباتی طور پر بدترین رویہ ہے جو کہ ایک انسان کی خود اعتمادی، خود قدری، اعتماد اور زندگی کے دیگر پہلوؤں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ایک انسان کو فکرمند، خوف زدہ اور نا خوشگوار مزاج کا حامل بنادیتا ہے۔ صحیح اور مثبت قدم یہ ہے کہ اگر آپ کسی کو جذباتی زیادتی یا بدسلوکی کا نشانہ بنا رہے ہیں یا خود اسکا شکار ہیں تو اس کیفیت کو پہچانیں ۔ اگر آپ کسی رشتے میں خود کو جذباتی طور پر تھکا ہوا محسوس کر رہے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

 زیادتی کے دوسرے اکسام بھی جذباتی طور پر نقصان کرتے ہیں، آگے پڑھیں   

  جسمانی بدسلوکی