سائیکو تھراپی

کیا سائیکو تھراپی واقعی فائدیمند ہے؟

تحقیق کے مطابق ، ذہنی امراض میں سائیکو تھراپی ادویات کی طرح ہی موثر ہوتی ہے جو مریض اور اس کے اہل خانہ میں پائیدار مثبت تبدیلی لاتی ہے۔ اسی طرح کی ایک اور تحقیق ، جس میں دو گروپوں کا مقابلہ کیا گیا تو یہ ثابت ہوا ہے کہ سائیکو تھراپی لینے والا گروپ نہ صرف یہ کہ نفسیاتی بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت مندہے بہ نسبت اس گروپ کے جس نے کبھی سائیکو تھراپی حاصل نہیں کی۔

سائیکو تھراپی کیسے کام کرتی ہے؟

کامیاب سائیکو تھراپی علاج کے پیچھے تین عواملموجودہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
۱) شواہد کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا سائیکو تھراپی طریقہ علاج (Evidence based psychotherapy)
۲) ماہر نفسیات کی اہلیت، مہارت و تجربہ
۳) سائیکو تھراپسٹ کی متعلقہ صفات اور ذاتی کردار کے ساتھ اخلاقی اور ثقافتی اہلیت

جب کوئی سائیکو تھراپی کا آغاز کرتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے اس کے مسائل،الجھنیں اور دشواریاں شاید کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ سائیکو تھراپسٹ ایسے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو ان مسائل سے متعلق نفسیات کی تعلیم (psycho-education) کے ذریعے آگاہی فراہم کرتا ہے اور انہیں مرض کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مریض کو اس کی موجودہ حالت اور اس حال تک پہنچانے والے حالات و واقعات اور عوامل سے متعلق مکمل آگاہی دینا ذہنی صحت کی بہتری کے لیے کام کرنے والے ماہرین کے لیے بہت اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔

اگرچہ بعض مسائل اور دشواریوں کا حل کسی ایک قسم کی تھراپی میں موجود ہوتا ہے جسے استعمال کر کے مریض کی مدد کی جا سکتی ہے تاہم علاج کی کامیابی کے لیے سب سے اہم چیز تھراپسٹ اور مریض کے درمیان باہمی تعلق اور تعاون ہے۔ یہ حقیقت کہ ذہنی بیماری قابل علاج ہے اور اس بیماری میں مبتلا شخص کی زندگی کو بہتر کیا جا سکتا ہے، مریض کے لیئے امید اور حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔ ایسی مثبت تبدیلیاں مریض میں فائدہ مند سوچ پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں صحت مند برتاؤ اور رویہ جنم لیتا ہے اور خوشگوار تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے جو ایک ہمدردانہ اور سہارا دینے والا نظام مرتب کرتا ہے جس سے افعال بہتر ہو جاتے ہیں۔



 رشتے بہت مضبوط سہارا ہوتے ہیں، ان کو سمھجنا ضروری ہے. نیچے دِیے لنک پر کلک کریں   

  رشتے