خود کو نقصان

منطقی بات چیت اور برتاؤ ۔ خود کو نقصان پہنچانے سے بچانے کاایک حل

تعارف

خود کو نقصان پہنچانا یا خودکو زخمی کرنا، جسے خودکشی کی نیت کے بغیر خود کو نقصان پہنچانا (این ایس ایس آئی)، بھی کہتے ہیں، وہ نقصان ہے جو کہ انسان مختلف طریقوں سے اپنے جسم کو پہنچاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس نقصان کا سبب ہمیشہ جذباتی اور ذہنی عدم استحکام ہوتا ہے۔ (کیر، موہلن کیمپ اور ٹرنر ۲۰۰۹)۔ کیونکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو کہ ہماری نفسیات میں سرایت کرجاتا ہے ، اسی لیئے یہ رویہ انسان کے خود کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا، یہ ایک ایسی آزمائش ہے جو کہ جاری رہتی ہے اور اس کی نوعیت کبھی اپنے آپ کو شرمندگی محسوس کروانے کی غرض سے نقصان پہنچانے یا اس عمل پر شرمندہ ہونے کی صورت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خود کو نقصان پہنچانے کی اس لگاتار کیفیت سے باہر آنا بظاہر نا ممکن سا نظر آتا ہے، مگر آپ منطقی بات چیت اور برتاؤ کی تھراپی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اس کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔


ڈی بی ٹی کیا ہے؟

منطقی بات چیت اور برتاؤ کی تھراپی جسے عام طور پر ڈی بی ٹی کہا جاتا ہے ، خاص طور پر ایسے افراد کے لیئے ایجاد کی گئی تھی جو کہ حد درجہ شخصی بے قاعدگی (بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر) کا شکار ہیں، لیکن یہ این ایس ایس آئی کے مریضوں کے لیئے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس کی افادیت ثابت ہوچکی ہے کیونکہ شخصی بے قاعدگی کے شکار لوگ اکثر خود کو نقصان نقصان پہنچاتے ہیں اور تحقیق کے مطابق ڈی بیْ ٹی ، این ایس ایس آئی کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیئے تمام عمر اور جنس کے لوگوں یکساں موزوں ہیں۔
ڈی بی ٹی ایک ماہر لائسنس یافتہ ذہنی معالج کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ چار مراحل پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ مریض کی کیفیت اور اس کے مرض کی نوعیت دیکھتے ہوئے ترتیب دیئے جاتے ہیں۔
ڈی بی ٹی کے وجود کا بنیادی تصور یہ تھا کہ لوگ جس وقت منفی جذبات کے غلبے کی وجہ سے خود کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس طرح اپنے جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ڈی بی ٹی کا بنیادی مقصد لوگوں کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ خود کو نقصان پہنچانا بتدریج کم اور بالآخر ختم کردیں۔ یہ طریقۂ علاج ان میں ایسی صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ جس کی مدد سے وہ اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھتے ہیں جس کی بناء پران کے رویہ میں تبدیلی رونما ہوتی ہے، وہ اپنے جذبات کو سمجھ پاتے ہیں اور اپنی زندگی کے مسائل کو حل کر پاتے ہیں اور ایک بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
ڈی بی ٹی کا تمام فلسفہ سائنسی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس فلسفے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مشکل حالات میں انسان کی نیورو کیمسٹری یا خودمختاری اعصابی نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ نتاشہ ٹریسی جو کہ ایک کنسٹلنٹ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے میں عجیب ضرور محسوس ہوسکتا ہے لیکن یہ فلسفہ بہت آسان اور سادہ ہے۔
منطقی رویہ اور برتاؤ کی تھراپی لوگوں کے لیئے تھراپی کی تکنیک کو یاد رکھنے کے لیئے مختلف آسان زاویے استعمال کرتی ہے جس میں سے ایک ٹی آئی پی ہے۔

ٹی سے ٹمپریچر یعنی درجۂ حرارت، اپنے خودمختاری اعصابی نظام(جسم کا وہ حصہ جو کہ تمام خودمختار سرگرمیوں پر قابوکرتا ہے جیسا کہ سانس لینا، دل کی دھڑکن وغیرہ ) کو تبدیل کرنے لیئے اپنے جسم کا درجۂ حرارت تبدیل کریں۔
ٹریسی (۲۰۱۲) ، ایسے میں آپ کو اپنی غوطہ خوری کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ جب آپ سرد پانی میں چھلانگ لگاتے ہیں ، اپنی سانس روکیں اور اپنے چہرے پر برف والا پانی لگنے دیں یا پھر اپنے چہرے پر آئس پیک رکھیں۔ یہ ضروری ہے کہ آپکی آنکھوں کے اردگرد کا حصہ اور اور آنکھوں کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا رہے۔
آرامدہ محسوس کرنے کے لیئے اپنے جسم کو گرم رکھیں۔ گرم پانی سے غسل کریں یا اپنے پاؤں گرم پانی میں رکھیں۔
ایک اور طریقہ جو کہ ٹریسی (۲۰۱۲) تجویز کرتی ہیں وہ سخت قسم کی کسرت ہے جس میں آپکے پورے جسم کو دباؤ اور جذباتیت سے باہر نکلنے میں مدد ملتی ہے۔

سخت کسرت کریں چاہے وہ تھوڑے وقت کے لیئے ہی ہو۔
اپنے جسم کی قوت اور طاقت کو بڑھائیں جس میں دوڑنا، تیز چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، باسکٹ بال کھیلنا، وزن اٹھانا وغیرہ آپ کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایک اور طریقہ جو کہ ٹریسی (۲۰۱۲) تجویز کرتی ہیں وہ اپنے جسمانی پٹھوں اور اعضاء کو آرام پہنچانا ہے۔ جس میں ہاتھوں سے شروع کرتے ہوئے کہنی تک کا حصہ، بازو، کندھے، گردن، ماتھا، آنکھیں، گال، ہونٹ، زبان، دانت، سینہ، کمر، پیٹ، کوہلے، رانیں، پنڈلیاں، ٹخنے اور پاؤں تک تمام حصوں کوآرام پہنچانا شامل ہے۔ ہر ایک عضوکو ۱۰ سیکنڈ تک ڈھیلا چھوڑدیں اور پھر اگلے عضو پر دھیان دیں۔


حوالہ جات

۱) کیر. پی ایل، اور میوہلن کیمپ.جے جے: خودکشی کی نیت کے بغیر خود کو نقصان پہنچانا : خاندانی ادویات اور بنیادی معالج کے لیئے کی جانے والی تحقیق کا جائزہ (جون ۲۱، ۲۰۱۸)
http://www.jabfm.org/content/23/2/240.full
سے حاصل کردہ۔
۲) ٹورمیون ای جے : بالغ لوگوں میں خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان، تشخیص سے علاج تک۔
https://www.duo.uio.no/bitstream/handle/10852/55209/PhD-AJ-Tormoen.pdf
سے حاصل کردہ
۳) ٹریسی این (۲۰۱۲): ڈی بی ٹی تھراپی کے ذریعے خود کو نقصان پہنچانے سے روکنا
http://www.jabfm.org/content/23/2/240.full
سے حاصل کردہ