ذہنی صحت

ذہنی مرض کی کیا وجوہات ہیں؟

ذہنی امراض کے حوالے سے سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ان کے شکار افراد کو ’’پاگل‘‘ سمجھا جائے یا پھر انہیں انکی حالت کے لیئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ تاہم کئی برسوں کی تحقیق نے اس دعوی کو مسترد کردیا ہے اور کیونکہ اس حوالے سے نئی نئی تحقیق سامنے آتی رہتی ہے جن سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ذہنی بیماریکسی ایک یا بہت سارے حیاتیاتی، نفسیاتی یا ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ہمیں ان تینوں عوامل کو الگ الگ جاننا ہوگا۔

حیاتیاتی / جنیاتی عوامل (Biological / Genetic Causes):

ذہنی بیماری کی ایک وجہ نیوروٹرانسمیٹرز ( neurotransmitters) میں عدم توازن بھی ہے، نیوروٹرانسمیٹر وہ کیمیائی مادے ہیں جو دماغ میں موجود اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کا کام انجام دیتے ہیں۔ چناچہ ان نیوروٹرانسمیٹرز ( neurotransmitters) میں عدم توازن سے دماغ کو جسم کے دیگر حصوں سے آنے والیپیغامات کو سمجھنے اور ان پیغامات کی بنیاد پر حکم جاری کرنے یا پروسس(Process) کرنے میں دشواری پیش آتی ہے اور یوں ذہنی بیماری کی علامات پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے انفیکشن (Infection) کا ہوجانا ہے جس سے دماغ کا کوئی حصہ متاثر ہوجائے، کوئی دماغی چوٹ،دماغی خرابی،کوئی صدمہ یا پیدائش کے وقت دماغ کو آکسیجن کی کمی سامناکرنا یا دورانِ حمل بچے کی دماغی نشوونما کے دوران متوازن غذا کا نہ ملنا بھی ذہنی بیماری کی وجہبن سکتا ہے۔

حیاتیاتی عوامل بھی کسی انسان کی ذہنی بے ترتیبی کا سبب بنتے ہیں۔ اگر کسی کے والدین یا اہل خانہ میں سے کوئی ایک ذہنی بیماری کا شکار ہو تو ایسے فرد میں بھی ان علامات کے آجانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں تاہم ضروری نہیں کہ یہ امکانات ہمیشہ ذہنی بیماری میں تبدیل ہوں۔
تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جسمانی حالت جس میں کوئی ایک جین متاثر ہوتی ہے، کے بجائے ذہنی بیماری میں مختلف جین میں پیدا ہونے والی مختلف قسم کی پیچیدگیوں کا ہاتھ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ذہنی بیماری موروثی (Inherited) طور پر بھی منتقل ہوجانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ ظاہر بھی ہوجائے تاہم یہ ممکن ہے کہ دیگر عوامل جیسے ماحولیاتی دباؤ اور نفسیاتی صدمہ موروثی (Inherited) طور پر منتقل ہوئی حساسیت کو بڑھا کر اسے ذہنی بیماری میں تبدیل کردے۔

نفسیاتی عوامل (Psychological Causes):

نفسیاتی صدمہ جیسے کوئی جذباتی، جسمانی حادثہ یا جنسی زیادتی، نظر انداز کیا جانا اور کسی قریبی شخص سے محروم ہوجانا ان صدماتی تجربات کی مثالیں ہیں جو ہماری ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔اس صورتِ حال میں انسان ذہنی دباؤ کی شدید کیفیت سے گزرتا ہے جو کہ ذہنی بیماری کی شروعات کا سبب بنتی ہے۔ نفسیاتی اسباب کی مثالوں میں تشدد، زبانی و جنسی بے عزتی، ناقابل برداشت اور ناقابل تلافی نقصان جیسے والدین یا کسی قریبی شخصیت کا انتقال ہوجانا، خوداعتمادی کی کمی اور جذبات کا اظہار نہ کرپانا شامل ہیں۔

سماجی اور ماحولیاتی عوامل (Social & Environmental Causes):

سماجی اور ماحولیاتی عوامل ایک فرد کے ارد گرد کے حالات اور واقعات ہیں جن کا اسیسامنا کرنا پڑتاہے اور یہ ماحول اس کے لیئے ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ذہنی دباؤ کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں جن میں پیشہ، مالی پریشانی، کسی عزیز کا بچھڑجانا، طلاق،بکھرا ہوا خاندان اور تلخ بچپن ، اسکول کی تبدیلی، معاشرتی ناہمواریاں اور منشیات کا استعمال شامل ہیں۔ درج بالا تمام وجوہات ذہنی صحت میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہیں بالخصوص ان لوگوں میں جن میں پہلے سے کوئی موروثی جین (Genetic Susceptibility) موجود ہوں اور وہ اس حساسیت کی وجہ سے جلد ذہنی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جسمانی عوامل کی نسبت ماحولیاتی اور سماجی عوامل ہماری نفسیات میں اپنی جڑیں بنا لیتے ہیں چنانچہ عمومی طور پر ایسے مریضوں کا سائیکو تھراپی (psycho therapy) اور کونسلنگ (Counselling) کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔

دیگر حالات جیسے حمل ضائع ہوجانا، گھریلو تشدد، کم عمری میں شادی اور بچے پیدا کرنے کے ساتھ ایک مثالی جسم اور وزن کو برقرار رکھنے کے لیے سماجی دباؤ خالص ایک جنس یعنی عورت سے منسوب ماحولیاتی عوامل ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی بیماریوں جیسے اداسی (Depression) اور کھانے پینے کی عادات میں خرابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

 ذہنی مرض کے ساتھ رہنا مشکل مرحلہ ہے، آگے پڑھیں    

  بدنامی