ذہنی بیماریاں

صرف اس لیئے کہ میں اپنی وہ کیفیات بیان نہیں کرسکتی جو کہ پریشانی اور تشویش کا سبب بنتی ہیں، انہیں کم اہم یا غلط نہیں بنادیتیں

لورن الزبتھ ، سوشل میڈیا شخصیت-



تعارف

پریشانی ایک عام اور جانی پہچانی کیفیت ہے جو کہ ہر انسان اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرتا رہتا ہے۔انسان جب کبھی کسی دباؤ کی کیفیت یا ڈر کی طرف مائل کرنے والے حالات کا شکار ہوتا ہے مثلاً کسی مشکل امتحان میں بیٹھنا یا بہت سارے لوگوں کے سامنے تقریر کرنا،وہ اس طرح کی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہم سب اپنی زندگی میں کئی مواقع پر گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان لمحات میں پریشانی کی یہ کیفیت ہمارے لیئے حوصلہ افزا بھی ثابت ہوسکتی ہے جو کہ ہمیں متوجہ رکھنے اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ تشویش اور پریشانی کی کیفیت صرف ذہنی دباؤ کی ہی حالت میں موجود نہیں ہوتی ، اس کیفیت کے علاوہ بھی موجود ہوتی ہے بلکہ یہ انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ثابت ہوتی ہے۔ ایک مصروف روڈ پار کرتے ہوئے،کچھ ایسی چیز ہوتی ہے جو کہ ہمیں جلد بازی میں کوئی بھی فیصلہ لینے سے روکتی ہے اور یہ چیز ہی وہ تشویش اور پریشانی کی کیفیت ہے۔ البتہ اگر یہ کیفیت مسلسل اورشدید ہو اور ہماری روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہونے لگے تو یہ فائدہ مند ہونے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہونے لگتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ہمیں پیشہ ور مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (American Psychological Association) کے مطابق، تشویش اور پریشانی کی کیفیت ایک ایسا جذبہ ہے جو کہ پریشانی کا احساس، فکر مندی کے خیالات اور جسمانی تبدیلیاں جیسے کہ بلڈ پریشر (Blood Pressure) کا بڑھ جانا جیسی خصوصیات رکھتا ہے۔ تشویش اور پریشانی کی بیماری میں حد سے زیادہ خوف، گھبراہٹ اور اسی نوعیت کی دوسری پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔ اس حصے میں تشویش اور پریشانی کی کیفیت کی علامات اور اسکی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔

نشانیاں اور علامات:

تشویش اور پریشانی کی تمام بیماریاں ایک جیسی نشانیاں اور علامات رکھتے ہیں، البتہ اس کی مختلف اقسام کچھ مخصوص علامات رکھتی ہیں۔ تشویش اور پریشانی کی کیفیت میں عام طور پر پائے جانی والی نشانیوں میں شامل ہیں:

۱) گھبراہٹ طاری ہونا
۲) حد سے زیادہ خوف کا شکار ہونا
۳) مختلف حالات، چیزوں اور لوگوں سے خوف کی وجہ سے بھاگنا
۴) خطرے کو ضرورت سے زیادہ بڑا سمجھ لینا
۵) خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کو کم سمجھنا
۶) بے سکونی اور بے آرامی محسوس کرنا
۷) وقت سے پہلے خوف محسوس کرنا اور ضرورت سے زیادہ سوچنا
۸) نیند کی بے قاعدگی (سونے کے لیئے یا نیند برقرار رکھنے میں مشکل ہونا)
۹) پرسکون ہونے اور آرام کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا
۰۱) شدید ذہنی دباؤ
۱۱) دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا اور ہاتھ پاؤں پر پسینہ آنا اوران کا ٹھنڈا پڑ جانا
۲۱) سینے اور گردن میں درد محسوس ہونا اور سانس کا اکھڑنا
۳۱) پٹھوں میں کھنچاؤ اور سختی کا بڑھ جانا
۴۱) متلی ہونا، چکر آنا اور کمزوری محسوس کرنا
۵۱) چڑچڑاپن
۶۱) کسی چیز پر توجہ نہ دے پانا

اگرچہ ان علامات کے ظاہر ہونے کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسا کہ دماغی سرگرمیوں میں تبدیلی یا پھر ماحولیاتی اثرات بھی ان کی وجہ بن سکتے ہیں، لیکن یہ سب علامات تشویش اور پریشانی کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ 

تشویش اور پریشانی کی بیماری کی اقسام:

حالانکہ اس بیماری کی تمام اقسام کی کیفیات عموما ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن کچھ عوامل ایسے ہین جنکی مدد سے انہیں الگ کر کے موئثر انداز میں انکا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ کچھ اقسام اور ان کے حوالے سے مختصر وضاحت یہاں بیان کی گئی ہے۔

۱) جدائی کے خوف کی بیماری (Separation Anxiety Disorder):

سیپریشن انزائٹی ڈس آرڈر ( Separation Anxiety Disorder) گھبراہٹ کی ایک ایسی کیفیت کو بیان کرتا ہے جس میں کسی انسان کو اپنے گھر، اپنی جگہ یا پھر کسی انسان سے الگ ہوجانے کا خوف ہو جن کے وہ بہت قریب ہو۔ پہلے یہ بیماری صرف ۸۱ سال سے کم عمر لوگوں میں پائی جاتی تھی لیکن DSM کے حالیہ ورژن کے مطابق یہ بیماری عمر کے کسی بھی حصے میں موجود انسان کولاحق ہوسکتی ہے۔ 

اگرچہ چھوٹے بچوں میں گھبراہٹ کی یہ کیفیت کسی حد تک قابلِ قبول ہے کیونکہ یہ انکی نشوونما کا ایک حصہ تصور کی جاتی ہے، لیکن یہ کیفیت ۲ سال کے بعد ختم ہوجاتی ہے جب بچے یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ والدین ہر وقت انکی نظروں کے سامنے نہیں رہ سکتے۔ 

البتہ، نشوونما کے اس دور میں اگر یہ کیفیت معمول سے بڑھ جائے تو پھر اسے سیپریشن انزائٹی ڈس آرڈر (Separation Anxiety Disorder) کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ علامات بچوں اور نوعمروں میں کم از کم ۴ ہفتوں اور بڑوں میں کم از کم ۶ مہینوں تک موجود رہیں اور اسکول میں یا کام کی جگہ پر، سماجی یا ذاتی طور پر یہ گھبراہٹ کسی قسم کے نقصان کا سبب بن رہی ہو۔

۲) منتخب گونگا پن کی بیماری (Selective Mutism):

سلیکٹو میوٹزم (Selective Mutism) گھبراہٹ کی ایسی شدید کیفیت ہے جس میں انسان چند مخصوص لوگوں کے سامنے یا خاص سماجی حالات میں کوشش کے باوجود بول نہیں پاتا۔ مثلاً اسکول کا کوئی ہم جماعت یا پھر کوئی ایسا رشتہ دار جس سے آپ اکثر ملاقات نہ کر پاتے ہوں۔ اس بیماری کی شروعات اکثر بچپن میں ہوتی ہے لیکن اگر اسکا علاج نہ کیا جائے تو یہ جوانی میں بھی جاری رہتی ہے۔

یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ سلیکٹو میوٹزم (Selective Mutism) کا شکار انسان یہ خود طے نہیں کرتا کہ اسے بات نہیں کرنی بلکہ وہ اس گھبراہٹ کی حالت میں طبعی طور پر بات کرنے اور بولنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

۳) گھبراہٹ کی بیماری(Panic Disorders) :

اس حالت میں انسان پر اچانک پریشانی یا خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے جسکا پہلے سے کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اس بیماری میں گھبراہٹ کے دورے((Panic Attacks مسلسل ہوسکتے ہیں اور انکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔گھبراہٹ کا دورہ پڑنا اکثر خوف اور گھبراہٹ کی اس حالت کو کہتے ہیں کہ جس میں انسان خود پر قابو کھونے لگتا ہے حالانکہ اصل میں خطرے کی کوئی بات موجود نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ شدید جسمانی ردعمل بھی سامنے آتا ہے اور انسان ایسا محسوس کرتا ہے کہ جیسے اسے دل کا دورہ پڑگیا ہو۔ انسان کسی بھی وقت گھبراہٹ کا شکار ہوسکتا ہے اور ایسی حالت کے شکار افراد ہمیشہ اس خوف کی حالت میں رہتے ہیں کہ انہیں کسی بھی وقت دوبارہ دورہ پڑ سکتا ہے۔

گھبراہٹ کی مختلف نشانیوں میں دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا، سانس لینے میں مشکل ہونا، گھٹن کا شکار ہونا، اتنی دہشت محسوس کرنا کہ جو آپکو مفلوج کردے، سر چکرانا، کپکپی طاری ہونا، متلی آنا، پسینہ آنا، دم گھٹنا، سینے میں گرماہٹ اور درد محسوس کرنا، انگلیوں اور پیر کے انگوٹھوں کا ٹھنڈا پڑجانا، اس بات کا خوف محسوس کرنا کہ آپ پاگل یا موت کا شکار ہونے والے ہیں، شامل ہیں۔

جب کسی انسان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوف اور گھبراہٹ کی بیماری کا شکار ہے تو وہ اپنی ہمت کھو بیٹھتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ روزمرہ کے معمولات پورے کرنے جیسا کہ اسکول جانے یا سودا سلف لانے کا اہل نہیں ہے کیونکہ کسی بھی وقت دوسرا دورہ پڑنے کا امکان موجود رہتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان جوگھبراہٹ کے دوروں(Panic Attacks) کا شکار ہو وہ گھبراہٹ کی بیماری میں مبتلا ہو۔ 

اگرچہ اس گھبراہٹ کی اصل وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں لیکن زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں سے گہرا تعلق موجود ہے جنکی وجہ سے انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جینیٹک(Genetic) پیشن گوئیاں بھی اسکی وجہ بن سکتی ہیں یعنی کہ اگر آپ کے خاندان کا کوئی قریبی فرد اسکا شکار ہوجائے تو ممکن ہے کہ آپ بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

۴) معاشرتی گھبراہٹ کی بیماری (Social Anxiety Disorder):

سوشل انزائٹی ڈس آرڈر (Social Anxiety Disorder) کا شکار انسان اکثر مختلف سماجی صورتِ حال جیسا کہ نئے لوگوں سے ملنا، نوکری کے لیئے انٹرویو، کلاس میں کسی سوال کا جواب دینا، قطار میں موجود کسی انسان سے بات کرنا، دوسروں کے سامنے کھانا پینا یا عوامی غسل خانہ ااستعمال کرنے میں گھبراہٹ اور خوف کی علامات محسوس کرتا ہے۔ ایسا انسان عام طور پراپنے اردگرد کے لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے اور مسترد ہوجانے سے ڈرتا ہے چاہے وہ ان آس پاس موجود لوگوں کی زندگی میں کوئی اہمیت رکھتا ہو یا نہیں۔ خوف کی یہ حالت اگر اس حد تک بڑھ جائے کہ روزمرہ کے معمولات جیسے اسکول جانے پر اثرانداز ہونے لگے تو یہ سوشل انزائٹی ڈس آرڈر (Social Anxiety Disorder) میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگ ان جگہوں اور تقریبات سے دور ہونے لگتے ہیں جہاں ان کے خیال میں انہیں ذرا سی بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہو۔ 

اس بیماری کا دورانیہ کم از کم ۶ مہینے ہوتا ہے جس کے دوران شکار انسان کو اپنی روزانہ زندگی مین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوشل انزائٹی ڈس آرڈر (Social Anxiety Disorder) کا آغاز اکثر نوعمری میں ان لوگوں میں ہوجاتا ہے جوبے حد شرمیلی طبیعت رکھتے ہیں اور اگر اسکا علاج نہ کیا جائے تو یا کئی سالوں یا پھر زندگی بھر تک موجود رہتا ہے اور انسان کو اسکی بھرپور صلاحیتوں کا اظہار کرنے سے روکے رکھتا ہے۔ 

۵) مخصوص چیزوں کا خوف (Specific Phobias):

شدیدڈر یانا مناسب خوف کی ایسی حالت جس میں انسان مخصوص چیزوں یا حالات کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو اسپیسفک فوبیا(Specific Phobia) کہلاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کیفیت کا شکار ہوتے ہیں وہ کچھ مخصوص چیزوں، جگہوں اور صورتِ حال کی موجودگی میں حد سے زیادہ اور نا معقول ڈر محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کیفیت میں لوگ خوف زدہ ہوتے ہیں اور اس ڈر کی صورتِ حال سے بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اس لیئے اس حد تک موجود ڈر اور خوف انکی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتا ہے، کام کرنے کی صلاحیت کم کردیتا ہے، عزتِ نفس میں کمی آتی ہے اور رشتوں میں کشیدگی کی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے۔

اگرچہ کچھ خوف ایسے ہیں جو کہ بچپن میں شروع ہوجاتے ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو کہ نوعمری یا جوانی کی حالت میں اچانک سامنے آتے ہیں۔ فوبیا اکثر اچانک لاحق ہوجاتے ہیں اور اکثر ان صورتِ حال اور چیزوں سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ پہلے کبھی بھی تکلیف کا سبب نہیں تھیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ خوف کے شکار انسان اگر یہ بات جانتے بھی ہوں کہ انکا ڈر بے وجہ ہے تب بھی اس کے بارے میں سوچنا ہی ان کے لیئے گھبراہٹ کا سبب بن جاتا ہے۔ کچھ مخصوص فوبیا (Phobias) میں جانوروں سے خوف، کیڑے مکوڑوں کا ڈر، جراثیم ہونے کا وہم، اونچائی کا خوف، گرج چمک اور طوفان سے ڈرنا، ڈرائیونگ کرنے سے ڈرنا، عوامی ذریعۂ سفر میں سفر کرنے سے خوف، اڑنے سے ڈرنا، دانتوں کے علاج اور مختلف طبی طریقہ کاروں سے خوف، لفٹ (lift) میں سفر کرنے سے ڈرنا اور دیگر شامل ہیں۔ 

۶) عمومی گھبراہٹ کی بیماری (Generalized Anxiety Disorder):

جنرلائزڈ انزائٹی ڈس آرڈر(Generalized Anxiety Disorder (GAD))  حد درجہ پریشانی اور گھبراہٹ کے واقعات کو ظاہر کرتا ہے جو کہ کسی واضح وجوہات کے بغیر سامنے آتے ہیں۔ یہ کیفیت روزمرہ زندگی میں محسوس کی جانے والی گھبراہٹ سے کچھ زیادہ ہے۔ GAD کی حالت میں کسی مصیبت کے آنے کا خوف کا لگا رہتا ہے اور صحت، پیسہ، خاندان،کام اور دیگر چیزوں کی فکر لاحق رہتی ہے۔

یہاں تک کہ صرف پورا دن گزارنے کا خیال ہی انسان کو گھبراہٹ اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے جس کی نتیجے میں بے آرامی، چڑچڑاپن، توجہ میں کمی اور نیند نہ آنا (Insomnia) جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

۷) بھیڑ سے ڈر لگنے کی بیماری (Agrophobia):

ایگرو فوبیا (Agrophobia) بھیڑ، عوامی مقامات اور کھلی جگہوں پر موجود ہونے کے شدید ڈر اور خوف کا نام ہے ۔ یہ پریشانی اور گھبراہٹ کی بیماری کی ایک ایسی قسم ہے جس میں انسان بے حد خوف محسوس کرتا ہے اور اکثر ایسی جگہوں اور تقریبات میں جانا نظر انداز کرتا ہے جو کہ اسکی پریشانی کی وجہ بن سکیں اور جہاں وہ خود کو شرمندہ، بے بس یا پریشانیوں میں گھِرا ہو محسوس کرے۔ یہاں تک کہ عام سے دکھائی دینے والے کام جیسا کہ بازار تک جانا بھی خوف کا باعث بن جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فرار کا کوئی راستہ نہیں۔ شدید حالات میں ایگرو فوبیا (Agoraphobiaکی حالت میں انسان گھر پر ہی رہ کر اس صورتِ حال سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ 


نوٹ: اگر آپ مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی بھی علامت اپنی روزمرہ زندگی میں ایک لمبے عرصے تک محسوس کرتے ہیں تو آپ کی پریشانی اور گھبراہٹ کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے کسی ماہرِنفسیات سے بات کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم آݒ کی مدد کے لیئےحاضرہیں ، رُوح برو۔ آئیے بات کریں۔ 


References:

[1] Morrison, J. (2014).  DSM-5 made easy: The Clinician’s guide to Diagnosis. New York: Guilford Press.   

[2] Anxiety. (n.d.). Retrieved from http://www.apa.org/topics/anxiety/   

[3]American Psychiatric Association. (2013). Diagnostic and statistical manual of mental disorders: DSM-5. Washington, D.C: American Psychiatric Association.


!ہم سے رابطہ کریں ، روح برو - آئیں بات کریں


 تھراپی حاصل کریں 



دوہری کیفیت کے بارے میں سمھجنا چاہیںگے ؟ نیچے لکھے لفظ پر دبائیں

  دوہری کیفیت