غصّہ اور اسکا علاج

غصہ اُن بنیادی جذبات میں سے ایک ہے جو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے اور کبھی کبھار یہ وقتی ضرورت بھی بن جاتا ہے۔ یہاں نکتۂ فکر یہ ہے کہ اگر غصہ ایک فطری عمل ہے تو اسکا جائزہ لینا اور اس پر قابو رکھنا کیوں ضروری ہے؟ ہر انسان زندگی میں کبھی نہ کبھی مایوسی اور جھنجلاہٹ کا شکار ضرور ہوتا ہے تو اس کیفیت پر قابو پانے کی ضرورت کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب اس ایک قو ل میں پوشیدہ ہے۔۔
’’زندگی میں کسی بھی شے کی زیادتی زہر کی طرح ہے۔‘‘

دیگر احساسات کی طرح، غصہ بھی انسان کے لئے نا صرف انفرادی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ غصے کی حالت میں انسان لڑائی کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسمانی،زبانی اور جذباتی طور پر نقصانات واقع ہوتے ہیں جو کہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ انسانی رشتوں کے معیارپر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

غصے کا جائزہ لینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسکا اظہار نہ کیا جائے۔ ایک مشہور قول کے مطابق غصے کو دبانا ایسا ہے کہ انسان خُود زہر پی لے اور یہ امید رکھے کہ سامنے والا مرجائے ۔ (اس قول کو بدھا سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن یہ بڑی حد تک ایک متنازعہ بات ہے)اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ غصے کا اظہار کرنا انتہائی اہم ہے بشر ط یہ کہ اظہار کے لیئے مناسب وقت اورمناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔ جھنجلاہٹ ، چڑچڑاپن اور ناراضگی جیسے جذبات کے اظہار کے لیئے ہمیشہ موٗثر طریقہ اختیار کرنا چاہیئے۔ اسی لحاظ سے غصے کو صحیح طریقے سے سنبھالنا اور موقع کی مناسبت سے اسکا اظہار کرنا انتہائی اہم ہے۔

ذرا سوچیئے آپ کے اطراف کے لوگ کس طرح اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے طریقۂ اظہار میں خاموش رہتے ہیں یا پھر پھٹ پڑتے ہیں؟ کیا اُنکا ردِعمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے یا وہ دوسرے لوگوں کے لیئے تکلیف کا سبب بنتے ہیں؟ کیا وہ اس حالت میں پُر سکون رہتے ہیں یا پھر وہ اپنے ناقابلِ بیان درد کااظہارکرتے ہوئے بے آرام اور بے چین ہوجاتے ہیں؟ کیا اُس دوران وہ اپنے الفاظ اور اپنی حرکات پر قابو رکھ پاتے ہیں یا پھر وہ اپنی ذات پر اختیار کھودیتے ہیں؟ غصے کے خاتمے پر انکا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟کیا اُنکے قریبی احباب اُنکے رویئے پرپریشان ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس تمام تمہید کے بعد یقیناًیہ بات واضح ہوچکی ہے کہ غصے کا احساس کیا ہے ، کونسے عوامل اسے شدید ردعمل سے مختلف بناتے ہیں اور غصہ قابو رکھنا کیوں ضروری ہے ۔

غصے کے اظہار کے لیئے کونسے طریقے معقول ہیں اور کونسے طریقے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اس کی باقاعدہ جانچ کے لیئے مختلف نفسیاتی ٹیسٹ (Test) میسر ہیں۔ لیکن اگر کوئی انسان غصے جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہو تو یہ جاننا بھی بہت آسان ہے۔ غصے کا روایتی اظہار کم وقت کے لیئے ہوسکتا ہے جس کے نتائج قابل برداشت ہوں۔ یا پھر شدید اظہار تباہ کُن نتائج کا سبب بھی بن سکتا ہے جس کی وجہ سے انسان نہ صرف خود کو بلکہ اپنے اطراف میں موجود لوگوں کو بھی نقصان پہنچاسکتا ہے۔ بہرحال غصے پر قابو رکھنا اور موئثر انداز میں اسکا اظہار کرنا بے حد ضروری ہے۔ اکثر یہ بات نظرانداز کردی جاتی ہے کہ غصے کے باعث انسان اپنی ذات کو کس حد تک نقصان پہنچاتا ہے۔ دماغی حالت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ غصہ انسان کی جسمانی صحت پر بھی اثرانداز ہوتا ہے جسکی وجہ سے دل کے دھڑکنے کی رفتار (Heart Rate) اور فشارِخون (Blood Pressure)میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اگر غصے کا احساس بہت شدید یا دیرپاہو تو یہ تبدیلیاں ہماری صحت کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی دے سکتی ہیں۔

کچھ طریقے جن کی مددسے غصے پر موئثر انداز میں قابو پایا جاسکتا ہے یہاں بیان کی جارہی ہیں:

(i) جسمانی علامات: اگر آپکو اپنے جسم میں کچھ تبدیلیاں محسوس ہوں جیسے کہ سانس بھاری ہونا، سر درد، دل کا غیر معمولی رفتار کے ساتھ دھڑکنا، پٹھوں میں کھنچاؤ کی کیفیت، تو ان تمام علامات پر فوراً دھیان دیں۔ ان علامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ ایک غیر معمولی جذباتی کیفیت کا شکارہورہے ہیں۔ ان باتوں کا خیال رکھیں۔
(ii)سانس لیں:اگر آپ ان جسمانی تبدیلیوں کو محسوس کر رہے ہیں تو گہرے سانس لیں۔ سانس اندر لیتے ہوئے ۷ تک گنتی گنیں ۔ ۴ تک گنتی گنتے ہوئے سانس روکے رکھیں اور پھر سانس باہر نکالتے ہوئے دوبارہ ۷ تک گنتی گنیں۔
(iii)وقفہ:۱۰ سے ۲۰ منٹ کا وقفہ لیجیئے تاکہ آپ خود کو پُرسکون کرسکیں۔ کمرے سے باہر نکل جائیں یا پھر مکالمہ ادھورا چھوڑدیں۔ ہر ممکن کوشش کیجیئے جس کی مدد سے آپ آرام دہ محسوس کرسکیں۔
(iv)موسیقی سنیں:کوئی ایسی موسیقی یا ایسا گاناسنیں جو آپ کو پسند ہو۔ اپنا دھیان بٹانے کی کوشش کریں۔
(v)کسرت:کوئی بھی ایسا کام کریں جوآپکی توانائی بحال کرسکے مثلا کسرت  (Exercise) ،   رقص  (Dance)،  کھیل کھیلنا یا پھر پیدل چلنا۔
(vi)لکھنا:اپنے خیالات اور احساسات قلمبند کریں۔
(vii)رائے لیجیئے:کسی سے مدد اور سہارا لیجیئے۔
(viii)رکیئے اور سوچیئے: اپنی ذات کا جائزہ لیجیئے۔جو عوامل آپ کے غصے کا سبب بنے اُن پر غور کیجیئے۔
(ix)بات کیجیئے:جب آپ بہتر محسوس کریں تو مناسب انسان سے بات کیجیئے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد غصے کے اظہار کو مناسب نہیں سمجھتے بلکہ وہ غصے پر قابو رکھنے پر یقین رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ انکے لیئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ماہرِنفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غصے کا سامنا کیا جائے اور اس سے منسلک جذبات اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اسلیئے یہ ضروری ہے کہ غصے کو تسلیم کیا جائے اور اسکا جائزہ لیا جائے جس میں صورتِحال اور انسان کا اپنے خیالات پر غور کرنا شامل ہے۔اس کے علاوہ مناسب انداز میں ان تمام لوگوں تک اپنا پیغام دیا جائے جو اس صورتِحال میں شامل ہوں۔ لیکن اگر معاملات کو سلجھانے کا کوئی مناسب راستہ موجود نہ ہو تو کوشش کریں کہ بجائے غصہ کر کے خود کو نقصان پہنچایا جائے, اپنے ذہن کو کسی تعمیری سرگرمی میں لگائیں۔ 


 کیا آپکو تنہائی محسوس ہوتی ہے؟ اس کے بارے میں پڑھیں    

  تنہائی