کیا آپ زیادتی کا شکار ہیں؟

کسی بھی شکل میں ہونے والی زیادتی کبھی بھی ایک دفعہ پیش آنے والی کہانی نہیں۔ یہ ایک با ر بار دہرایا جانے والا عمل ہے اور اکثر یہ ظالم اور مظلوم کے درمیان ایک مسلسل واقع ہونے والی زہریلی ملاقات کا رنگ اختیار کرلیتی ہے۔

پس منظر

اقوامِ متحدہ کے ایک مطالعے کے مطابق، پاکستان میں ۵۰ فیصد شادی شدہ خواتین جنسی زیادتی جبکہ ۹۰ فیصد نفسیاتی زیادتی کا شکار ہوئی ہیں۔ قومی ادارہ برائے خواتین پاکستان اور زکر اٹ ال (Zakar et al.) کی جانب سے کیے جانے والا مطالعہ پاکستانی گھروں میں ہونے والے گھریلو تشدد کے واقعات کی اس حد درجہ بڑھے ہوئے اعداد و شمار کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ۴۲ فیصد خواتین اس تشدد کو اپنی قسمت سمجھ کر تسلیم کرلیتی ہیں، ۳۳ فیصد خواتین اس اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتیں ، ۱۹ فیصد اس کے خلاف احتجاج کرتی ہیں اور صرف ۴ فیصد اس کے خلاف کسی ردعمل کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

زکر اٹ ال (Zakar et al.) کے ایک مطالعے کے مطابق ۳۷۳ شادی شدہ خواتین جو کہ تولیدی عمر سے تعلق رکھتی تھیں، سے بات چیت کی گئی، ۸.۶۰فیصد خواتین نے خود کو شدید نفسیاتی زیادتی کا شکار بتایا، جبکہ ۱۵ فیصد خواتین ماضی میں اس کا شکار ہوچکی تھیں۔ مطالعے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نفسیاتی زیادتی کی شکار خواتین کی تعداد ان خواتین سے بہت زیادہ ہے جو کہ حالیہ طور پر جنسی زیادتی (۳.۲۷ فیصد) اور جسمانی زیادتی (۷.۲۱ فیصد) کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ، نصف سے زائد تقریباً ۵۴ فیصد خواتین شدید ذہنی بیماری کا شکار ثابت ہوئیں۔

زیادتی کا گول دائر

(یہاں تصویر ڈالیں)


اوپر دیا گیا چکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح زیادتی اور بدسلوکی ایک گول چکر میں گھومتی ہے یہ ایک مسلسل دہرائے جانے والا عمل ہے جو کہ ہمیشہ پہلے مرحلے میں پہنچ جاتا ہے جو کہ اس کے شکار انسان کو پھر سے نقصان پہنچانا شروع کردیتا ہے۔ اس چکر کی شروعات پریشانی سے ہوتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں کوئی بھی واقعہ یا حادثہ اس کے شکار انسان کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ ان حالات میں مظلوم انسان کے رویئے میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہوتی ہے جو کہ شدید غصے کو ظاہر کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کے شکار انسان میں پریشانی اور تشویش کی حالت بڑھ جاتی ہے۔ ان دو کیفیات کے درمیان بعض اوقات اس کے شکار افراد حالات کو مختلف طریقوں سے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں مثلاً کمرے سے چلے جانا یا پھر زیادتی کرنے والے انسان کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ۔ اگر حالا ت قابو میں آجائیں تو زیادتی اور بدسلوکی کا یہ چکر ختم ہوجاتا ہے ورنہ پھر یہ اگلے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے۔

اگر غصے پر قابو نہ پایا جائے تو انسان زیادتی کر بیٹھتا ہے۔ یہ زیادتی زبانی کلامی ہوسکتی ہے جس میں کوئی جملہ، بے عزتی یا دھمکی اس کے شکار فرد کے لیئے جذباتی طور پر تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ اکثر چیخنے چلانے کی وجہ سے زبانی زیادتی وجود میں آتی ہے جس میں بحث اور جھگڑے کے دوران غیر مناسب اور غیر موزوں الفاظ کا استعمال شامل ہوتا ہے جو کہ انسان کی بے عزتی کا سبب بنتاہے۔ جسمانی بدسلوکی بھی اسکی ایک شکل ہوسکتی ہے جس میں مار پیٹ اور نقصان پہنچانے کی شکل میں غصے کا اظہار کیا جاتا ہے جو کہ جذباتی طور پر بھی نقصان کا سبب بنتا ہے۔

جب یہ واقعہ ختم ہوجاتا ہے تو زیادتی کرنے والا انسان حالات سنبھالنے کے لیئے مختلف طریقوں کا استعمال کرتا ہے۔ ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان حالات میں موجود اپنے احساسات کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ دوبارہ ایسے کسی برتاؤ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ایک دوسرا طریقہ مختلف بہانے بنانا یا پھر دیگر بیرونی عوامل مثلاً ذہنی دباؤ وغیرہ کو ذمہ دار ٹھہرانا ہے تا کہ اس الزام سے بچا جاسکے۔ ایک اور ردعمل زیادتی کے شکار افراد کو تمام واقعے کے دوران ان کی غلطیاں یاد کروانا اور انہیں اس بات کا احساس دلانا ہے کہ وہ خود ہی اس رویئے کے ذمہ دار ہیں تا کہ واپس ان پر ہی الزام ڈالا جاسکے۔ چوتھا طریقہ تمام واقعے کو زیادتی یا بدسلوکی ماننے سے قطعاً انکار کردینا ہے جبکہ پانچواں طریقہ واقعے کی سنجیدگی اور شدت کو نظر انداز کرنا ہے۔ یہ دونوں ردعمل زیادتی کرنے والے افراد کی جانب سے کیئے جانے والے سنگین جرائم میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ اس سے حد درجہ غیر ذمہ داری کے ساتھ ساتھ واقعے کے لیئے کسی قسم کی شرم یا افسوس کا نہ ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے۔

آخری مرحلہ اس سکون اور خاموشی کو ظاہر کرتا ہے جو کہ زیادتی کی ایک نئی لہر سے پہلے موجود ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں مصالحت کا پہلو شامل ہوتا ہے جس میں زیادتی کرنے والا انسان مکمل ہوش و حواس میں اپنے عمل اور اس کے نتائج پر غور کرتا ہے یا پھر وہ اپنے عمل پر شرمندگی محسوس کرتا ہے ۔ زیادتی کا شکار انسان بھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں آگے بڑھتا ہے اور اس امید کے ساتھ اس واقعے کو بھول جاتا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گالیکن یہ حالات صرف اس وقت تک برقرار رہتے ہیں جب تک کہ زیادتی کرنے والا انسان دوبارہ اس رویئے کا مظاہرہ نہیں کرتا جو کہ غیر متوقع ہوتا ہے اور اس کا ڈر ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔

زیادتی کرنے والے افراد کی علامات

زیادتی کرنے والے افراد کسی بھی عمر، جنس، معاشی یا معاشرتی طبقے اور قومیت سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کے انسان میں کچھ خاص عادات اور علامات شامل ہوتی ہیں۔

۱) حد سے زیادہ حسد کا شکارہونا

۲) دلکشی

۳) چالاک اور ساز باز کرنے والا

۴) دوسروں پر حاوی ہونے والا

۵) شکاری طبیعت کا مالک

۶) خود پسندی

۷) غیر مستقل مزاجی اور مزاج میں متعدد تبدیلیاں واقع ہونا

۸) دوسروں پر تنقید کرنا

۹) غصے کے عالم میں ردعمل کا اظہار کرنا اور چیزوں کی توڑ پھوڑ کرنا

۱۰) انسان کو دوسرے لوگوں سے لا تعلق کردینا اور خود پر مکمل منحصر کردینا

۱۱) حد سے زیادہ حساس ہونا

۱۲) ظالم اور بدکار

۱۳) غیر مخلص اور منافق

۱۴) پیسہ خرچ کرنے میں کنجوسی اور اخراجات میں کمی کرنا

۱۵) اپنے برتاؤ کو ماننے سے انکار کرنا

زیادتی کے شکار افراد کی علامات

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیادتی کرنے والے افراد کی عادات اور علامات کے بارے میں جاننا ضروری ہے لیکن زیادتی کے شکار افراد کی عادات اور علامات کے بارے میں جاننا بھی نہایت ضروری ہے۔ تحقیق کار بتاتے ہیں کہ نوجوان مرد اور خواتین جذباتی زیادتی کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان کی خاص عادات اور علامات یہ ہیں:

۱) خود اعتمادی میں کمی

۲) فکرمند اور غیر محفوظ تصور کرنا

۳) دوسرے کے سامنے فرمانبردار طبیعت کا مظاہرہ کرنا

۴) جذباتی اور معاشی طور پر دوسروں پر منحصر ہونا

۵) حد سے زیادہ برداشت کرنا اور ملنسار ہونا

۶) اپنی حفاظت کے لیئے مناسب حدود قائم نہ کرنا

۷) ہر بات کے لیئے اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی عادت ہونا

۸) اپنے حقوق کی حفاظت نہ کرنا

۹) نرم مزاج طبیعت کا مالک ہونا اور دوسروں کو کسی بھی بات کے لیئے منع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا

زیادتی کا شکار ہونا نفسیاتی اور جسمانی طور پر بھی انسانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسی خواتین جو کہ ایک توہین آمیز تعلقات میں بندھے رہنا چاہتی ہیں ان کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ عورتوں کا خود کو مظلوم سمجھنے کی کیفیت (Battered women syndrome)ہے۔ یہ ایک عورت کی ایسی ذہنی حالت ہے جس میں عورت خود کو اس رشتے میں پھنسا ہو ا محسوس کرتی ہے اور اس رشتے کو نبھانے پر مجبور ہے۔ اوپر بیان کیے گئے زیادتی کے چکر کی طرح یہ بھی ایک مسلسل جاری رہنے والا تکلیف دہ عمل ہے جس میں عورت یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس رشتے کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ان خیالات کے زیرِ اثر ، ایک عورت اپنے زندگی کے ساتھی کے مزاج کے دو رخ محسوس کرتی ہے، ایک پیار کرنے اور خیال کرنے والی طبیعت اور ایک زیادتی کرنے والا مزاج۔ ایک مرد کے مزاج میں ہونے والی حد سے زیادہ تبدیلیاں عورت کو بے یار و مددگا ر اور کشمکش میں مبتلا کردیتی ہیں اور اسے جذباتی طور پر پیچیدہ بنادیتی ہیں۔ چنانچہ بہت سی خواتین اپنے رشتے کی نوعیت اور کیفیت کو سمجھنے کے باوجود اس رشتے میں بندھے رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کچھ مرد بھی اپنے رشتوں میں اس طرح کی زیادتی برداشت کرتے ہیں اور وہ بھی اسی طرح خود کو لاچار تصور کرتے ہیں۔ شاید آپ نے مردوں کا خود کو مظلوم سمجھنے کی کیفیت (Battered men syndrome ) کے بارے میں نہ سنا ہو ، یہ ابھی اسی طرح بیان کیا جاسکتا ہے جس طرح اوپر عورتوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جس میں مرد ایک ایسے رشتے میں بندھے رہتے ہیں جس میں عزت موجود نہیں ہوتی اور اس رشتے میں موجود عورت ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور زیادتی کا سلوک کرتی ہے۔ اگر آپ اس طرح کی زیادتی کا شکار ہیں اور مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔

کیون لوگ ایسے ماحول میں رہنا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں بے عزتی اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟یہ انسان کو جذباتی طور پر کمزور بنادیتا ہے، اس کیفیت کے شکار انسان خود کوبے عزت، خوف زدہ، دکھی اور مایوس محسوس کرتا ہے تو پھر وہ اس رشتے کو چھوڑ کیوں نہیں دیتا؟ اس کی بنیادی وجہ ظالم انسان کی دوسروں پر حاوی ہوجانے والی طبیعت ہے۔دیکھنے والوں کے لیئے شاید یہ بہت معمولی بات ہو مگر زیادتی کا شکار ہونے والے افراد کو کسی ایسے انسان کا سامنا کرنے کے لیئے کہ جس کو ان پر مکمل طور پر قابو حاصل ہو، جو کہ ان پر اپنی طاقت آزماتا ہو یا پھر جو انہیں بے چین اور مضطرب کردینے کی صلاحیت رکھتا ہو، بہت ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ بے چینی اور فکرمندی کی کیفیت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اس بے عزتی کا سامنا کرنے کے لیئے ہار مان لینا سب سے آسان حل ہے۔ ہار مان لینا اور فرمانبرداری کا مظاہرہ کرنا تمام اقسام کی زیادتی کے نتائج کا نمایاں جز ہے۔

زیادتی کے شکار افراد ہمیشہ مختلف سوالات میں گھرے رہتے ہیں۔ میں کسی ایسے رشتے کا کیسے چھوڑ سکتا / سکتی ہوں جو کہ ختم نہیں کیا جاسکتا؟ میں کس طرح اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور رشتہ داروں سے تعلق توڑ سکتا / سکتی ہوں؟ میں کس طرح ایک ایسے رشتے کو ختم کرسکتا / سکتی ہوں کہ جس سے میں جذباتی طور پر اس حد تک وابستہ ہوں ؟ اپنے زندگی کے ساتھی کو چھوڑ دینے کے لیئے مناسب وقت کیا ہے؟ کیا میں اسے صرف اس لیئے چھوڑ دوں کہ اس نے مجھے ایک بار تھپڑ مارا ہے یا پھر اسے دوسرا موقع دینا چاہیئے؟ اگر میں نے اپنے شریکِ حیات سے علیحدگی اختیار کرلی تو پھر رہائش کے لیئے مجھے کہاں جانا ہوگا؟ اور جواب دینے کے لیئے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ: لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں اور کہیں گے؟ یہ کوئی آسان اور سادہ مرحلہ نہیں ہے لیکن زیادتی اور بدسلوکی کے اس چکر سے باہر آنا نا ممکن نہیں۔

زیادتی اور بدسلوکی سے نمٹنے کے طریقے

زیرِ بحث زیادتی کی مختلف اقسام سے قطع نظر، زیادتی کے شکار انسان کے لیئے پہلا قدم اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ ان حالات کے لیئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ آپ کچھ فاصلہ اختیار کریں اور واقعہ کی ذمہ داری قبول نہ کریں۔ صورتِ حال کا زیادتی کرنے والے انسان کی نظرکے بجائے ایک غیر جانبدارانہ نظر سے جائزہ لیں اور سوچیں کہ اس واقعے میں بدسلوکی کی شروعات کس کی طرف سے ہوئی؟ کیا وہ آپ تھے؟ کیونکہ اس تمام واقعے کی شروعات دوسرے انسان کی طرف سے ہوئی ہے تو ان تمام چیزوں کی ذمہ داری آپ کیوں قبول کریں جو کہ رشتے میں خرابی کا سبب بنیں؟

زیادتی اور بدسلوکی سے نمٹنے کا دوسرا اہم طریقہ بات چیت ہے۔ کسی ایسے انسان کو تلاش کرنا جس کے ساتھ تمام واقعات اس احساس کے ساتھ بیان کیئے جاسکے کہ آپ کو شرمندہ اور بے عزت نہیں کیا جائے گا، دو طرح سے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے: ۱) ایسا کرنے سے آپ خود کو جذباتی طور پر ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں ۲) اس گھٹن زدہ صورتِ حال کے حوالے سے ایک مختلف رائے میسر آجاتی ہے۔ دوسرے انسانوں سے بات کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بہت سے لوگ کسی نہ کسی شکل میں ہونے والی زیادتی کا شکار ہیں لیکن وہ اپنے یہ احساسات کسی سے بیان نہیں کرتے۔ زیادتی کرنا ایک ایسا عمل ہے جو کہ خطرناک حد تک عام اور لوگوں میں پھیلا ہوا ہے۔

زیادتی اور بدسلوکی سے نمٹنے کا ایک اور طریقہ لوگوں میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر بچوں کو ان کے جسمانی اعضاء کے بارے میں آگاہ کرنا اور مناسب رویؤں کے بارے میں بتانا انتہائی ضروری ہے۔ کیا چیز قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں، بچوں کو اس بارے میں معلومات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ زیادتی اور بدسلوکی کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل ہونا اس سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیئے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ والدین کے لیئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جذباتی طور پر صحت مند اور خود سے قریب رکھیں کیونکہ یہ انہیں کسی بھی قسم کی زیادتی سے بچانے کا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ اسی طرح شادی کے رشتے میں بھی ، جوڑے کے لیئے اپنے حقوق اور اپنے شریکِ حیات کے حقوق کے بارے میں جاننا انتہائی اہم ہے۔ یہ بات جاننا بھی انتہائی ضروری ہے کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو کہ قابلِ قبول اور نا قابلِ قبول برتاؤ کے درمیان فرق کرتے ہیں۔

اگر آپ ایک ایسے انسان ہیں جو کہ دوسروں کے لیئے تکلیف کا باعث بنتا ہے اور اور آپ کی وجہ سے دوسروں کو جسمانی اور زبانی طور پر تکلیف پہنچتی ہے تو آپ یہ جانئے کہ آپکے اس برتاؤ کی وجہ کیا ہے؟ ایسی کونسی چیز ہے جو کہ آپ کو اپنے زندگی کے ساتھی کو تکلیف اور نقصان پہنچانے پر مجبور کردیتی ہے؟ کیا آپ اپنا غصہ اپنے بچوں پر نکالتے ہیں؟ کسی رشتے میں زیادتی کرنا کوئی عادت نہیں ہے بلکہ یہ ایک طرح کا بوجھ ہے جو کہ غلط انسان پر اتار دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ صحیح مدد اور رہنمائی کے ذریعے بہتر کیا جاسکتا ہے ، ہم سے رابطہ کریں۔

اگر آپ زیادتی کا شکار ہورہے ہیں تو اپنے لیئے آواز بلند کریں۔ یہ صحیح وقت ہے کہ جب آپ اس بات کو محسوس کرسکیں کہ آپ اس کیفیت کو سنبھال سکتے ہیں۔ کیا آپ جاننے چاہتے ہیں کہ اپنے اندر ہمت کیسے پیدا کی جائے؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پریشانی اور تشویش کو کس طرح شکست دی جائے اور اپنے لیئے کھڑا ہوا جائے؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے والدین کے لیئے جو کہ آپ کے ساتھ زیادتی کا رویہ رکھتے ہیں ، کسی قسم کا نامناسب رویہ اختیار کیے بغیر کس طرح ان کا سامنا کیا جائے؟ ہم آپ کے ان تمام سوالوں کے جواب دینے کے لیئے یہاں موجود ہیں۔ ہم سے رابطہ کریں۔

 سب سے بنیادی احساس کے بارے میں پڑھنا اور اسے نمٹنا سیکھنا چاہیں گے؟     

  غصّہ اور اسکا علاج