رشتے

کچھ باتیں رشتوں کے بارے میں


رشتہ یا تعلق دو انسانوں کے درمیان موجود رابطے کا نام ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں اس طرح کے رشتوں اور رابطوں کی ہمیشہ تلاش رہتی ہے۔ ہم کسی ایسے انسان کے قریب رہنا چاہتے ہیں جس سے ہم اپنے خیالات اور احساسات بانٹ سکیں اور وہ ہمارے بارے میں کوئی بُری رائے قائم نہ کرے۔ اس طرح کے باحیثیت رشتے آج بھی موجود ہیں جیسے کہ بہن بھائی، ساتھ کام کرنے والے لوگ، دوست احباب، استاد اور شاگردیا پھر لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت کا رشتہ ۔ کوئی بھی رشتہ دو بنیادی وجوہات سے مضبوط رہتا ہے:

۱) عزت
۲) ایک دوسرے کو سمجھنا۔

اگر یہ دونوں چیزیں رشتے میں موجود ہوں تو رشتے مضبوط اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں اور انسان اپنے آپ کو محفوظ اور پُر سکون محسوس کرتا ہے۔

کچھ رشتے ایسے بھی ہیں جو کہ اپنا وجود تو رکھتے ہیں لیکن وہ ان بنیادی اجزاء سے محروم ہیں۔اس طرح کے رشتے لوگوں کو غیر محفوظ اور غم زدہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ ایک ایسی دوستی کے بارے میں سوچیئے جس میں آپکے دوست آپکی عزت نہ کرتے ہوں۔ یہ دوستی آپکو کیسی لگتی ہے؟ ایک ایسے تعلق میں بندھے رہنا کس طرح کا احساس ہے؟ کیا آپ غیر مطمئن ہیں؟ کیا یہ دوستی دیرپا ثابت ہوسکتی ہے؟ ہر رشتہ جو بنیادی جُزیات سے محروم ہوتا ہے، پریشانی اور تشویش کا باعث بنتے ہوئے انسان کو دو طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ ۱) انسان کی خودی اور ۲) کسی رشتے میں بندھے رہنے کی خواہش۔

خودی سے مراد وہ سوچ ہے جو ایک انسان اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ یہ جواب ہے اُس سوال کا کہ ’’کیا میں قابل ہوں؟‘‘ ۔ ایک غیر محفوظ رشتے میں موجود انسان کی خودداری اکثر ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک ناپائیدار رشتے میں دوسروں کے ساتھ روابط قائم رکھنا بھی ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس بات کا احساس کرنا بہت ضروری ہے کہ کس طرح ایک عزت سے محروم رشتہ ہمارے لیئے ذہنی طور پر نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے اور صرف ایک بامعنی اور محفوظ رشتہ ہمارے دماغی سکون کو برقرار رکھنے کے لیئے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
رشتۂ ازدواج یا شادی کا رشتہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ مزید کئی رشتوں کے بننے کا تعین کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک جوڑے کے درمیان پائیدار، محفوظ اور باعزت رشتہ موجود ہے تو انکی اولاد کی دماغی صحت پر اسکے اچھے اثرات مرتب ہونگے۔ اور وہ زندگی اور تعلقات کے بارے میں ایک مثبت سوچ رکھنے کے قابل ہونگے۔ لیکن اگر یہ بچے اپنے ماں باپ سے غصہ، تشدد اور تنقید کرنا سیکھیں گے تو ان میں ایک مضبوط رشتہ بنانے کی صلاحیت بہت ہی کم ہوگی کہ جس میں وہ خود کو محفوظ سمجھ سکیں۔ کسی بھی رشتے کو بنانے اور لوگوں کے ساتھ روابط قائم رکھنے کے لیئے ابتدائی تعلیم بچے اپنے ماں باپ یا اپنے سرپرست شخصیات سے حاصل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شادی جیسے رشتے کے بارے میں بات کرنا انتہائی اہم ہے۔

شادی:

جان گوتمان (John Gottman) نے اپنی کتاب "The Seven Principles for Making Marriage Work " میں ایک تفصیلی طریقہ بیان کیا ہے جس میں شادی کے رشتے کو مضبوط بنانے کے لیئے کچھ اصول بیان کیئے گئے ہیں۔ کتاب میں بیان کیئے گئے اصولوں میں مندرجہ ذیل اصول شامل ہیں:

قربت کے رشتوں کے تقاضوں کو سمجھنا:

ہمارے لیئے یہ سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو کہ کسی بھی قریبی رشتے کو جوڑنے یا توڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس کے لیئے سب سے پہلے ضروری ہے کہ لفظ ’’قربت‘‘ کا مفہوم واضح کرلیا جائے۔ قربت چند مختلف معانی رکھنے والا ایک ایسا کرشمہ ہے جو کہ کسی رشتے کی گہرائی اور دورانیہ ، دوسرے انسانوں کے قریب ہونے کی خواہش اور اسکی گنجائش اور باہمی تعلق کے آداب بیان کرتا ہے جو کہ دو لوگوں کے درمیان موجود رویہ کو بیان کرتا ہے۔

ایک صحت مند رشتہ مثبت نتائج رکھتا ہے۔ رابرٹ والڈنگر (Robert Waldinger) اور ان کے ساتھیوں نے ہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University) میں ۷۵ سال تک تحقیق کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ٰایک صحت مند رشتہ رکھنا انسان کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتا ہے اور یہ بات بھی واضح کی کہ کس طرح ایک اچھا اور مضبوط رشتہ انسان کی زندگی میں خوشیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اس تحقیق کے لیئے ۷۵ سال تک ۷۲۴ مردوں کی زندگی کا معائنہ کیا گیا ہے اور یہ تحقیق اب بھی جاری ہے۔ TEDx Talk کے دوران والڈنگر نے بتایا کہ اب تک کے مطالعہ سے تین طرح کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ 

۱) پہلا یہ کہ جو لوگ اپنے شریکِ حیات، دوستوں اور خاندان سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں وہ خوش اور صحت مند رہتے ہیں اور لمبی زندگی جیتے ہیں۔ دوسری طرف تنہائی سے زندگی میں بے سکونی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تنہا ہونے کا مطلب اکیلا ہونا نہیں بلکہ ایک ایسے تعلق میں بندھا ہونا ہے جو کہ آپکی ضرورتوں کو پورا نہ کر پارہا ہو اور آپ اکیلا محسوس کر رہے ہوں۔ 
۲) قربت اور گرم جوشی سے بھرپور رشتے انسان کی مجموعی کارکردگی پر بھی اچھے اثرات ڈالتے ہیں۔ جو لوگ اپنی شادی شدہ زندگی میں جھگڑوں اور مسائل کا شکار رہتے ہیں انہیں خراب صحت، اکیلا پن اور اداسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
۳) اچھی شادی شدہ زندگی انسان کی صحت برقرار رکھتی ہے اور اسے جلدی بوڑھا نہیں ہونے دیتی۔ یہاں تک کہ کسی جسمانی تکلیف کی موجودگی میں بھی ایک خوشگوار زندگی گزارنے والا انسان کم تکلیف اور پریشانی محسوس کرتا ہے۔ اب ہم ایک خوشگوار اور صحت مند تعلق کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ 

ایک مضبوط اور صحت مند رشتے کی بنیاد تین C's پر ہوتی ہے۔ رابطہ (Communication) ، وعدہ (Commitment) اور سمجھوتہ (Compromise) ۔   دو لوگوں کے درمیان بھروسہ قائم کرنے کے لیئے بات چیت یا کمیونیکیشن کرنا انتہائی اہم ہے جس کی مدد سے وہ ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور دوسروں کے خیالات اور انکی رائے کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایک موئثر طریقہ ہے جسکی مدد سے غلط فہمیوں اور غلط بیانیوں کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وعدہ یا کمٹمنٹ اس سفر کا لازمی حصہ ہے جس میں ہر طرح کے مشکل اور آسان وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانا شامل ہے۔ اس کے علاو ہ اس رشتے میں موجود دونوں لوگوں کی طرف سے سمجھوتہ یا کمپرومائز کرنا بھی ایک اہم عمل ہے جو کہ رشتے کی بہتری اور دیر پا زندگی کے لیئے ضروری ہے۔ اگردونوں طرف سے ان تین C's پر عمل کیا جائے تو ایک خوشگوار رشتہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ 


References:

[1] Oldham, J, M., Skodol, A, E., & Bender, D, S. (2014). The American Psychiatric Publishing Textbook of Personality Disorders. Retrieved from https://books.google.com.pk/books

[2] Ward, M. (2016). 75-year Harvard study reveals the key to success in 2017 and beyond. Retrieved from https://www.cnbc.com/2016/12/15/75-year-harvard-study-reveals-the-key-to-success-in-2017-and-beyond.html 

[3] Watkins, B. (2014). Cs of Marriage: Ceremony, Celebration, Cleaving, Change, Compatible, Compete, Commitment, Communication, Complement, Compromise, Conformity. WestBow Press.Retrieved from https://books.google.com.pk/books

 شادی شدہ زندگی کے مسائل کے بارے میں سیکھیں    

  شادی شدہ زندگی کے مسائل